کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتی عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک ادمی بیرون ملک رہتا ہے اور اس ملک کا قانون یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی آٹھ گھنٹے سے کم کام کرتا ہے تو اس کو حکومت کی طرف سے اس کی بچوں کے لیے بیوی کے لیے گھر کے کرائے کے لیے خرچہ دیا جاتا ہے تو یہ آدمی جس کمپنی میں کام کرتا ہے اس کمپنی والوں نے اس ادمی کے ساتھ چار گھنٹے کا کنٹریکٹ کیا ہے اور وہ کام کرتا ہے اٹھ گھنٹے اور یا اس سے بھی زیادہ لیکن کنٹریکٹ اس کے ساتھ چار گھنٹے کا ہے تو اسی وجہ سے حکومت کی طرف سے اس کو پیسے مل رہے ہیں تو یہ پیسے لینا کیسا ہے اور جو پیسے اس کو ملے ہیں اس کو کیا کریں
مہربانی فرما کر جواب عنایت فرمائے
سوال میں ذکرکردہ طریقہ کار غلط بیانی، دھوکہ دہی اور قانون کی خلاف ورزی پرمشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور گناہ ہے،اوراسی بنیادپرحکومتی مراعات سے مستفیدہونابھی جائزنہیں ۔لہٰذا اس شخص کواپنے ناجائز طرزِ عمل سے توبہ تائب ہوکرآئندہ کے لیے اس سے مکمل طورپراجتناب اورمتعلقہ محکموں کودرست اور صحیح معلومات فراہم کرنالازم اورضروری ہیں۔جبکہ اب تک غلط معلومات اوردھوکہ دہی کے ذریعہ جوحکومتی مراعات حاصل کی ہیں وہ کسی بھی مناسب طریقہ سے اس واپس کرنالازم اورضروری ہیں ۔
کمافی الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية:«ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها» (4/ 413)