بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ ”رنگ “ کے نام پر پیسے لیتے ہیں جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
قانوناً جب حکومت کسی جگہ کام کرتی ہے مثلاً سڑک بنانا، سکول بنانا، ہسپتال وغیرہ بنانا تو حکومت پہلے اخبار میں ٹینڈر دیتی ہے کہ مثلا ً25 جولائی تک خواہشمند حضرات فلاں کام کے ٹھیکہ کے لیے ریٹ دے سکتے ہیں، پھر ٹھیکے دار حضرات اپنا اپنا ریٹ دیتے ہیں، ریٹ صرف وہ لوگ دے سکتے ہیں جن کے پاس ٹھیکیداری کا لائسنس ہو، اور وہ سی ڈی آر جمع کرے، لائسنس ہر آدمی بنا سکتا ہے، البتہ اس پر سالانہ حکومت کا ٹیکس لگتا ہے، پھر ان ٹھیکے داروں میں سے جو سب سے کم ریٹ دے حکومت اس کو ٹھیکہ دیتی ہے، کیونکہ ظاہر ہے اس میں حکومت کو نفع ہوتا ہے اور اس کی سی ڈی آر جو تقریباً 2 فیصد یا ڈھائی فیصد ہوتا ہے حکومت کو جمع ہوتا ہے اور باقی ٹھیکیداروں کو اپنا سی ڈی آر واپس ملتا ہے یہ تو قانوناً طریقہ کار ہے۔
اب یہاں کے ٹھیکیدار حضرات نے ایک پرائیویٹ کمیٹی بنائی ہوئی ہے، جب حکومت کسی ٹھیکہ کا ٹینڈر اخبار میں دیتی ہے تو یہ لوگ مقررہ تاریخ سے پہلے آپس میں جمع ہوتے ہیں اور پھر آپس میں خود ریٹ دیتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ سفید کاغذ پر ہر ایک اپنا ریٹ لکھ لیتا ہے مثلاً کوئی 10 فیصد پر ٹھیکہ لینا چاہتا ہے کوئی 12 فیصد پر کوئی 15 فیصد پر جو سب سے زیادہ ریٹ دے گا اس کے لیے سب ٹھیکیدار ٹھیکہ چھوڑ دیتے ہیں اس طرح حکومت کو اب صرف ایک ریٹ دیا جاتا ہے پہلے کی طرح مختلف ریٹ نہیں ملتے کہ پھر حکومت جو ان میں سے سب سے کم ریٹ دے ٹھیکہ اس کو دے۔
اور اس نے جو 10، 12 یا 15 فیصد ریٹ دیا وہ پیسے باقی ٹھیکیدار حضرات جن کو ٹھیکہ نہیں ملا اور انہوں نے سی ڈی آر جمع کیا تھا ان کو یہ پیسے دیتے ہیں اور وہ آپس میں تقسیم کر دیتے ہیں اس کو یہاں کے اصطلاح میں ”رنگ“کہتے ہیں.
اس مذکورہ کمیٹی اور ان کے طریقہ کار کا افسران بالا سب کو علم ہے حتی کہ وزیراعلی تک کو اس کا علم ہے اور وہ اس پر راضی ہیں کیونکہ جو 10 یا 12 یا 15 فیصد وہ پیسے دیتے ہیں ان میں باقاعدہ ان افسران بالا کو بھی حصہ ملتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی ہے کہ اس مذکورہ کمیٹی سے ہٹ کر کوئی اور اگر حکومت کو ریٹ دینا چاہے تو وہ نہیں دے سکتا ،ایک تو اس کو ٹھیکہ نہیں دیا جاتا، کسی طرح اس کے کاغذات رد کیے جاتے ہیں افسران بالا کی طرف سے ،اور دوسرا اس کو مذکورہ کمیٹی کی طرف سے جان کا خطرہ بھی ہوتا ہے، اس وجہ سے تمام ٹھیکیدار مجبور ہیں کہ وہ مذکورہ کمیٹی کی ترتیب پر ٹھیکہ لیں۔
اب یہاں چند صورتیں ہیں جن کا حکم پوچھنا ہے۔
1 :- ان ٹھیکیدار وں میں سے بعض تو وہ ہیں جو حقیقت میں ٹھیکہ لینا چاہتا ہے تو مذکورہ کمیٹی کو اپنا ریٹ دیتا ہے لیکن کوئی اور اس سے زیادہ ریٹ دیتا ہے تو ظاہر ہے مذکورہ کمیٹی ٹھیکہ زیادہ ریٹ والے کو دیتا ہے اور باقی رہ جاتے ہیں تو ان باقیوں کے لیے ”رنگ “ کے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟
2 بعض وہ ہیں جن کا ارادہ ٹھیکہ لینے کا نہیں ہوتا صرف ”رنگ“ کے پیسے لینے کے لیے وہ سی ڈی آر جمع کرتے ہیں اور پھر بہت کم ریٹ دیتے ہیں جو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس ریٹ پر مجھے ٹھیکہ نہیں ملے گا تو ان کے لیے رنگ کے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟
3 :- بعض وہ ہوتے ہیں جن کا جی چاہتا ہے کہ مجھے ٹھیکہ ملے لیکن ظاہر ہے کہ ٹھیکے پر پیسے لگتے ہیں اور ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے لہذا مجبوراً وہ بھی بہت کم ریٹ دیتے ہیں جس پر ٹھیکہ نہ ملنا تقریباً یقینی ہوتا ہے ان کے لیے رنگ کے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟
4 :- بعض لوگوں کے پاس لائسنس ہوتا ہے لیکن ان کے پاس پیسے نہیں ہوتے ہیں تو وہ کسی اور سے پیسے لےکر سی ڈی آر جمع کرتے ہیں اور پھر جب رنگ کے پیسے لیتے ہیں تو آدھے لائسنس کے مالک کے ہوتے ہیں اور آدھے جس سے پیسے لئے تھے اس کو دیتے ہیں تو ان دونوں کے لیے رنگ کے پیسے لینے کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کسی بھی منصوبہ کے تکمیل کے لئے ٹینڈر کے ذیعہ لوگوں کے انتخاب کرنے کا مقصد کم لاگت میں اس کی تکمیل کرانا ہوتا ہے ،تاکہ حکومتی خزانہ میں جمع شدہ فنڈ عوامی منصوبوں پر بہتر سے بہتر انداز میں خرچ ہو سکے ،جبکہ سوا ل میں ذکرکردہ طریقہ کا ر کے مطابق ٹیندر حاصل کرنے کے لئے مناقصہ (Reverse Auction) میں رنگ(Ring) بنانا یعنی بولی لگانے والوں کا آپس میں اتفاق کرلینا کہ بولی میں کم سے کم اس قیمت تک بولی لگائی جائے ،اور اس بنیاد پر بولی میں شامل ہوناکہ اگر رنگ کا کوئی فرد بولی کے نتیجہ میں ٹیندر حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ رنگ میں شامل ہو نے والے بقیہ افراد کو پیسے دے گا یہ شرعاً جائز نہیں ،کیونکہ یہ شرعاً رشوت ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے ، اور اس طرح آپس میں اتفاق کرلینے کی وجہ سے بولی کی عمومی فضاء بھی ختم ہو جاتی ہے ،جس سے عوامی خزانہ کو نقصان ہوتا ہے، لہذا مذکورہ طریقہ سے ٹینڈر حاصل کرنے یا اس میں شامل ہو نے سے اجتناب لازم ہے ۔
فقہ البیوع (140/1)
٥١ تواطؤ المشاركين في المزايدة
وقد جرى العمل في بعض البلاد على أن المشاركين في المزايدة يتواطئون فيما بينهم على أن لا يقدم أحد منهم عطاء أزيد على مبلغ متفق عليه. وإن هذا التواطؤ يؤثر على ثمن السلعة أثراً كبيراً، حيث لا يبلغ الثمن أكثر مما يريد المتواطئون. ومن أجل ذلك يُنشئون جماعة تسمى "حلقة " (Ring) وإن مثل هذا التواطؤ يُسمى "الصرع " Knock out) كأن هذه الحلقة صرعت الجهة البائعة أو المشاركين الآخرين. وإن مثل هذا التواطؤ كان مشروعاً في القانون الإنكليري العام (Common Law) وقد صدرت بجوازه قرارات من المحاكم الإنكليزية والهندية. (1) ثم أصدر قانون فى سنة ۱۹۲۷ جعل مثل هذا التواطؤ جريمة قانونية إذا دخل فيه أحد بإعطاء هدية، أو تعويض عن إمساكه عن تقديم العطاء الزائد. والظاهر من هذا القانون أنه إذا وقع التواطؤ بدون هدية أو تعويض (رشوة) فإنه غير ممنوع قانوناً۔
أما فقهاء الشريعة الإسلامية، فلم يذكروا حكم هذا التواطؤ في المزايدة، ولكن يظهر من المبادئ العامة ومذاق المقاصد الشرعية أن مثل هذا التواطؤ لا تجوزه الشريعة الإسلامية إن كان فيه إضرار بالبائع أو بالمشاركين الآخرين. لأن المبدأ الذي أخذت به الشريعة الإسلامية أن تكون هناك منافسة حرة فيما بين البائعين والمشترين، ويقع تعيين الثمن على أساس هذه المنافسة الحرة. ولذلك منعت الشريعة الإسلامية الاحتكار، وتلقي الجلب، وبيع الحاضر للبادى، كما سيأتي في بيان البيوع المكروهة إن شاء الله تعالى. ويُمكن أن يستأنس لذلك بما ورد في بعض طرق الحديث أن النبي الكريم صلى الله عليه وسلم قال: "لا تناجشوا "" و "التناجش" يقتضى "التشارك " وأن يكون من قبل أكثر من جهة واحدة، وإن كان شراح الحديث فسروه بطريق آخر. والله سبحانه أعلم