محترم مفتی صاحب،السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ
ہمارے محترم والد صاحب کے پاس ایک ورکشاپ تھی، جو انہیں وراثت میں ملی تھی۔ اس کے ساتھ ایک لیتھ مشین اور کچھ اوزار بھی شامل تھے۔ اس وقت ہم، یعنی ان کے بیٹوں نے، رشتہ داروں سے قرض لےکر گندم کے تھریشر بنانے کا کاروبار شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ کاروبار ترقی کرتا گیا۔ اس دوران ہم نے ایک 25 مرلہ کے پلاٹ پر، جو والد صاحب کے نام اور ان کی وراثت کا حصہ تھا، ایک مکان تعمیر کیا۔ اس کے علاوہ ہم بھائیوں نے تقریباً 9 کنال زمین کے دو پلاٹ بھی خریدے، جن میں سے 1 کنال والد صاحب کے نام پر، جبکہ باقی زمین ہم بھائیوں کے اپنے نام پر ہے۔ یہ پلاٹ ہم نے مشترکہ کاروبار (ورکشاپ) کی آمدنی سے خریدے تھے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان پلاٹوں کی خریداری والد صاحب کی زندگی میں ہوئی، اور اُنہوں نے اس ملکیت یا اس کی تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ ہم (بھائی) اور ہماری بہنیں والد صاحب کی زندگی ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہو چکے تھے۔ ہماری تین بہنیں ہیں، جن کے نام 25 مرلہ والے گھر میں شامل ہیں، اور ہم بھائی اس بات پر متفق ہیں کہ اُنہیں اس گھر میں ان کا مکمل شرعی حصہ دیا جائے گا۔البتہ ہم ایک اہم مسئلے پر آپ کی شرعی رہنمائی چاہتے ہیں کہ کیا ہماری بہنوں کو اُن دو اضافی پلاٹوں میں بھی حصہ ملے گا جو ہم بھائیوں نے کاروباری آمدنی سے خریدے تھے؟ حالانکہ وہ پلاٹ ہمارے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہیں اور وراثتی نہیں ہیں؟ ہم یہ بھی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ والد صاحب کے انتقال کے تقریباً آٹھ سال بعد ہم بھائی الگ الگ رہنے لگے تھے۔ آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس معاملے میں شریعت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت میں ہماری بہنوں کے حقوق یا حصے کا کیا شرعی حکم ہوگا؟ جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء۔
واضح ہوکہ کسی شخص کے انتقال کےوقت وراثت صرف اُن اموال میں جاری ہوتی ہے جو حقیقتاً اس کی ملکیت ہو، جواموال یاپراپرٹی بوقت انتقال مرحوم کی ملکیت نہ ہو،اس میں وراثت جاری نہیں ہوتی ۔لہذا سائل کے والدمرحوم کی وراثت ،مشترکہ کاروبارمیں بوقت انتقال ان کی شراکت داری کے بقدرموجودحصہ ،مذکور25مرلہ کا رہائشی مکان اورجوکچھ چھوٹابڑاگھریلو سازوسامان سونا،چاندی ،نقدی وغیرہ ان کی ملکیت میں موجودہو، اس میں جاری ہوگی ،جہاں تک اُن اضافی پلاٹوں کا تعلق ہے جومشترکہ محنت اور کاروباری آمدنی سے خریدےگئے، ان میں سے ایک کنال کاوہ پلاٹ جس کی رجسٹری اورملکیت سائل کے والدکے نام تھی، وہ ان کاترکہ شمارہوگااوران کے تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعی تقسیم کیاجائےگا اور جوپلاٹ سائل اوراس کے بھائی کے نام پر رجسٹرڈہے نیز والد صاحب نے اپنی زندگی میں اس پر کوئی ملکیتی دعویٰ یا اعتراض بھی نہ کیا ہو تووہ پلاٹ سائل اوراس بھائیوں کی ذاتی ملکیت شمار ہوگا،اس میں سائل کے والدمرحوم کی وراثت جاری نہ ہوگی۔
البتہ اگر سائل اور اس کےبھائی صلہ رحمی کے طور پر بہنوں کو اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ دینا چاہیں تو یہ جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے، لیکن ایساکرناان پرشرعاًلازم وضروری نہیں ۔
کمافی شرح المجلۃ: المادۃ 1092- کما أن أعیان المتوفی المتروکۃ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم کذلک یکون الدین الذی لہ فی ذمۃ شخص مشترکاً بینھم علی حسب حصصھم إلخ(الکتاب العاشر: فی انواع الشرکات، ج 4 ، ص 27 ، ط دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الدر المختار: لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا إذنہ(کتاب الغصب، ج 9، ص 291، ط: دار الکتب العلمیۃ)-
وفی الھندیۃ: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب اھ (کتاب الشرکۃ،ج:2، ص: 329، ناشر: ماجدیۃ)-
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2