محترم مفتی صاحب ! مشتر کہ موروثی مکان کے بنے ہوئے حصے میں دو بھائیوں نے رہائش اختیار کی، اور خالی جگہ پلاٹ تیسرے بھائی کو دیا، اور معاہدہ ہوا کہ یہ تیسر ابھائی اپنے پیسے سے بنوا کر رہے ، جب حتمی تقسیم ہو گی، تو تیسرے بھائی کا کیا ہو اخر چہ ادا کیا جائیگا، پھر حتمی تقسیم کی جائے گی، اسی بھائی نے تقریباً 40 سال پہلے 10000 ( دس ہزار ) خرچہ کیا تھا، آج فیصلے کے وقت ان 10000 ( دس ہزار) کی ادائیگی میں آج کی مالیت معتبر ہو گی یا کس کے سے اعتبار ہو گا؟
جس بھائی نے مذکور مشتر کہ پلاٹ پر تعمیرات کے اخراجات کیے ہیں، تعمیرات کا مالک بھی وہی ہے، لہذا جتنی قیمت تعمیرات کے ملبے کی بنے اس کو منہا کر کے فقط پلاٹ کو تمام ورثاء میں تقسیم کر نالازم ہے۔
كما في شرح مجلة: إذا أذن الشريك صراحة شريكه بالتصرف المضر فلاشك أن للشريك أن يتصرف بذلك اھ ( ج 3 ص 327)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2