السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ماں کی وراثت میں سے اگر بچوں کو کچھ ملتا ہے اور اگر بچوں کی تعداد چار ہو اوران کا والد بھی زندہ ہو، تو کیا وہ پانچ لوگوں میں تقسیم ہوگا یا صرف چار لوگوں میں تقسیم ہوگا ؟
واضح ہو کہ مورث کے انتقال کے وقت اس کے موجود تمام ورثاء اس کے ترکہ میں شرعاًحصہ دار ہوتے ہیں ، لہذا مرحومہ والدہ کے انتقال کے وقت اگر اس کاشوہر بھی زندہ ہو تو بچوں کے ساتھ مرحومہ کا شوہر بھی اس کے ترکہ میں شرعاً حصہ دار ہو گا ۔
کما فی الشامیۃ: و شروطہ ثلاثۃ موت مورث حقیقۃ أو حکما کمفقود أو تقدیرا کجنین فیہ غرۃ و وجود وارثہ عند موتہ حیا حقیقۃ أو تقدیرا کلحمل و العلم بجھۃ إرثہ الخ ( کتاب الفرائض، ج: 6، ص:758، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: و یستحق الإرث باحدی خصال ثلاث بالنسب وھو القرابۃ و السسب وھو الزوجیۃ و الولاء وھو علی ضربین ولاء عتاقۃ و ولاء موالاۃ و فی کل منھما یرث الأعلی من الأسفل ولا یرث الأسفل من الأعلی الخ ( کتاب الفرائض الباب الأول فی تعریفھا ، ج: 6، ص: 448، ط: ماجدیۃ)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1