جناب اسلام علیکم۔
میں ملیشیا Malaysia میں( CCC ECRL)کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ میں نے اس کمپنی میں کچھ حرام پیسے کماے ہیں۔
پھر بہت جلد اللہ نے ہدایت کی اور توبہ کی توفیق ملی ۔
(مجھے اب بھی حرام کا موقع ملتا ہے مگر اللہ کا شکر ہے کہ حرام نہیں لے رہا ) مگر جو تھوڑی سی رقم نادانی میں لی تھی اور خرچ کی تھی اس کا اب کیا کرنا چاہیے اگر میں کمپنی میں Boos کو بتاتا ہوں تو یہ میرے لیے زیادہ مشکلات بھی کھڑی کر سکتا ہے جس سے میری نوکری بھی جا سکتی ہے ۔
سائل نےکمپنی سے نادانی میں حاصل ہوئے مالِ حرام سے اگرچہ توبہ کر لی گئی ہو، اس کے باوجود بھی سائل پر مذکور رقم کی تلافی لازم ہے،اس کے بغیریہ حق ذمہ سے ساقط نہ ہوگا۔
تاہم، اگر براہِ راست رقم کی واپسی سے ملازمت کو خطر ہ لاحق ہوتواس صورت میں نام اور رقم جمع کرانےکی وضاحت کیے بغیر کسی قابل اعتماد شخص کے ذریعے بالواسطہ رقم کمپنی کے اکاونٹ آفس میں جمع کروا نے کی بھی گنجائش ہے ۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٖ مِّنكُمۡۚ [النساء: 29]
«وفی صحيح البخاري :عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يقول:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: (الحلال بين، والحرام بين، وبينهما مشبهات لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى المشبها استبرأ لدينه وعرضه، ومن وقع في الشبهات: كراع يرعى حول الحمى أوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، ألا وإن حمى الله في أرضه محارمه،ألا وإن في الجسد مضغة: إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب).»(1/ 28)
وفی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه»(5/ 99)