آمدنی و مصارف

اسرائیلی مصنوعات کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
84115
| تاریخ :
2025-07-12
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

اسرائیلی مصنوعات کی آمدن کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے مفتیان عظام موجودہ صورت حال میں اسرائیلی مصنوعات سے جو کمائ اورانکم حاصل ہوتی ہے وہ حلال ہے یا نہیں اور ان کی مصنوعات کو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

موجودہ حالات میں جبکہ اسرائیلی طاغوت پوری طاقت کے ساتھ نہتے فلسطینی مسلمانوں پر ظلم و بربریت ڈھا رہا ہے، اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ محض جذباتی ردِّعمل نہیں بلکہ غیرتِ ایمانی کا تقاضا، مظلوم مسلمانوں کے ساتھ عملی ہمدردی، اور ان کے غم میں شریک ہونے کا مؤثر ذریعہ اور باعثِ اجروثواب ہے۔ یہ بائیکاٹ ایک طرف ظالم قوت کے مالی وسائل کو کمزور کرتا ہے اور دوسری طرف مظلوموں کے حوصلے کو تقویت دیتا ہے، اس لیے ایسے وقت میں ہر مسلمان کو حتی المقدور اس مہم میں شامل ہونا چاہیے، تاکہ ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
جہاں تک ان مصنوعات کو بیچ کر نفع حاصل کرنے کا تعلق ہے، تو اصولی طور پر اگر کوئی چیز فی نفسہٖ حلال ہو اور اس کا مالکانہ حق درست طریقے سے حاصل کیا گیا ہو تو اس کی خرید و فروخت جائزاوراس حاصل شدہ منافع حلال ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : وَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ [المائدة: 2]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمۡ أَوۡلِيَآءَ تُلۡقُونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَقَدۡ كَفَرُواْ بِمَا جَآءَكُم مِّنَ ٱلۡحَقِّ يُخۡرِجُونَ ٱلرَّسُولَ وَإِيَّاكُمۡ أَن تُؤۡمِنُواْ بِٱللَّهِ رَبِّكُمۡ إِن كُنتُمۡ خَرَجۡتُمۡ جِهَٰدٗا فِي سَبِيلِي وَٱبۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِيۚ تُسِرُّونَ إِلَيۡهِم بِٱلۡمَوَدَّةِ وَأَنَا۠ أَعۡلَمُ بِمَآ أَخۡفَيۡتُمۡ وَمَآ أَعۡلَنتُمۡۚ وَمَن يَفۡعَلۡهُ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ[الممتحنة: 1]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُواْ ٱلۡيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوۡلِيَآءَۘ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلِيَآءُ بَعۡضٖۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَإِنَّهُۥ مِنۡهُمۡۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمۡ يَقُولُونَ نَخۡشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٞۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَ بِٱلۡفَتۡحِ أَوۡ أَمۡرٖ مِّنۡ عِندِهِۦ فَيُصۡبِحُواْ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّواْ فِيٓ أَنفُسِهِمۡ نَٰدِمِينَ وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقۡسَمُواْ بِٱللَّهِ جَهۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡ إِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡۚ حَبِطَتۡ أَعۡمَٰلُهُمۡ فَأَصۡبَحُواْ خَٰسِرِينَ [المائدة: 51-53]
و فی صحيح البخاري» :عن عامر قال: سمعته يقول: سمعت النعمان بن بشير يقول:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (‌ترى ‌المؤمنين: ‌في ‌تراحمهم، ‌وتوادهم، وتعاطفهم، كمثل الجسد، إذا اشتكى عضوا، تداعى له سائر جسده بالسهر والحمى).»(5/ 2238)
«الولاء والبراء والعداء في الإسلام : فإن ‌الأصل ‌في ‌البيوع ‌الإباحة سواء منها ما كان مع المسلمين أو الكفار كما سبق وحيث لم يوجد ناقل عن هذا الأصل فلا يتغير الحكم ولكن يرتبط به الحالة الآتية:
3 - أن لا يتيقن أن عين ما يشتري به منهم يستعان به على حرام؛ لكن في مقاطعتهم مصلحة، ولعل هذه الحالة هي أكثر ما يكون الحديث عنه.
ولبيان حكم هذه الحالة فإني أحتاج لتقسيمها إلى قسمين:
أ - أن يتم الشراء من الكافر مباشرة أو من خلال سمسار أو وكيل بعمولة.
وإذا أردت الوصول للحكم الشرعي في هذا القسم فإني بحاجة لتقرير مسلمات شرعية توصلنا للنتيجة: فالأصل جواز التعامل مع الكفار ولو كانوا من أهل الحرب، وأن وسائل الحرام حرام ولا يحكم على فعل حتى ينظر في مآله وعاقبته.
ولا يباح مما يفضي إلى مفسدة إلا ما كانت مصلحته أرجح ولا يحرم مما يفضي إلى مصلحة إلا ما كانت مفسدته أرجح ولا مانع من استعمال الإضرار المالي جهادا لأعداء الله ولو لم يأذن به الإمام.
وعليه فإن كان في المقاطعة والحال ما ذكر مصلحة فإنه يندب إليها على أنه يراعى مدى الحاجة للبضائع كما سبق.
ب - أن يتم الشراء من مسلم اشترى البضاعة أو صاحب امتياز، ولبيان الحكم فإني مع تذكيري بما سبق من مسلمات فإني أذكر بأن المنتج الكافر يأخذ مقابل منحه امتياز التصنيع، وهو يأخذه سواء قل البيع أو كثر، فالمقاطعة إضرار به وبعمالته وبالمساهمين معه في رأس ماله، وكذا الحال بالنسبة لمن اشترى بضاعة من الكافر وصارت من ماله فالمقاطعة إضرار به.
ولذا فإن القول بندب المقاطعة فيه ثقل لوجود المفسدة والضرر الكبيرين، ولا يقال فيها إن المفسدة خاصة والمصلحة عامة؛ وذلك لأن المسلم سيكون هو المتضرر، ولأن نفع المقاطعة مظنون وتضرر الشركة مقطوع به، والمقطوع يقدم على المظنون.
وعلى كل فاعتراض المفسدة قد يمنع القول بندب المقاطعة في هذا القسم، والله تعالى أعلم.
وأنبه هنا إلى أن من قاطع البضائع والسلع المنتجة من دول الكفار بنية حسنة كتقديم البديل الإسلامي أو زيادة في بغض الكفار فإنه إن شاء الله ممدوح على فعله مثاب. (ص75)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 84115کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کمپنی کی طرف سے استعمال کے لئے ماہانہ مقرر کردہ پیٹرول کو کیش کرانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات