میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کوئی شخص احرام باندھے بغیر میقات (Meeqaat) کو عبور کر سکتا ہے، جبکہ اس کا ارادہ صرف جدہ میں کاروباری مقصد کے لیے داخل ہونے کا ہو، اور بعد میں حرم جا کر طواف وغیرہ ادا کرے؟
میں یہ سوال اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ میں نے سنا ہے کہ جو شخص حدودِ حرم میں داخل ہو، اس کے لیے احرام باندھنا اور عمرہ کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کے بعد وہ دیگر کام سر انجام دے سکتا ہے۔
براہِ کرم اس بارے میں راہنمائی فرمائیں۔
میقات سے باہر رہنے والا شخص اگر حرم میں داخل ہونے کے ارادہ سے مواقیتِ خمسہ میں سے کسی میقات سے گزرے تو اس کے لیے حج یا عمرہ کا احرام باندھنا ضروری ہے ، احرام کے بغیر میقات سے تجاوز کرنے کی صورت میں اس پردم لازم ہوگا اور ایک عمرہ یا حج کی قضا بھی کرنا لازم ہوگی، البتہ اگر میقات سے باہر رہنے والا آدمی کسی ایسی جگہ جانے کا ارادہ کرے جو میقات کے اندر ہو لیکن حرم سے باہر ہو یعنی حل میں واقع ہو(مثلا جدہ یا طائف )،تو ایسی جگہ کا قصد کرنے کی صورت میں میقات سے گزرتے ہوئے اس پر احرام کی حالت میں ہونا لازم نہیں ہے، بلکہ بغیر احرام کے بھی وہ میقات سے گزر سکتا ہے، البتہ اگر بعد میں وہ شخص مکہ مکرمہ یا حدودِ حرم میں داخل ہونے کا ارادہ کرے، تو چونکہ وہ اب اہلِ حل میں شمار ہوگا، اس کےلیےحرم میں داخل ہونے سے پہلے حل میں سے کسی بھی جگہ سے احرام باندھ لینا کافی ہے۔کسی میقات پرجاکراحرام باندھ کرواپس ٓنالازم نہیں ہوگا۔
كما في حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة. ولو عند المجاوزة على ما مر، ونية مدة الإقامة ليست بشرط على المذهب (له دخول مكة غير محرم ووقته البستان ولا شيء عليه) لأنه التحق بأهله كما مر، وهذه حيلة لآفاقي يريد دخول مكة بلا إحرام".(2/ 477)
وفي غنية الناسك : لأن مجاوزة المیقات بنیة دخول الحرم بمنزلة إیجاب الإحرام علی نفسه‘‘. (غنیة الناسک ص: 63)
و في المناسک لملا علي القاري: من دخل من أهل الآفاق مکة أو الحرم بغیر إحرام فعلیه أحد النسکین أي من الحج والعمرة، وکذا علیه دم المجاوزة أو العود‘‘. (ص: ۸۷)