السلام علیکم
کوریا میں میں نے اپنا کاسمیٹکس اور فوڈ پروڈکٹس کا کام شروع کیا ہے۔ میں کوریا کاسمیٹکس اور فوڈ پروڈکٹس باہر دنیا میں بھیجتا ہوں ،میں کوئی بھی ایسی فوڈ یا کاسمیٹک پروڈکٹ جس میں حرام انگریڈینٹس یعنی حرام اجزاءشامل ہوں، اس کی تجارت نہیں کرتا، یہ حرام اجزا وہ اس پروڈکٹ کے ڈسکرپشن ( تفصیل)میں لکھے ہوتے ہیں ۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کبھی کبھار گو کہ براہ راست اس پروڈکٹ کے میں حرام اجزاء شامل نہیں ہوتے، لیکن اس پروڈکٹ کی مینوفیکچرنگ کرتے ہوئے ان ڈائریکٹ طریقے یعنی بالواسطہ طریقے سے اس پروڈکٹ میں حرام اجزاء شامل ہو سکتے ہیں، مثال کے طور پر ایک مشین جہاں پر ایک حرام پروڈکٹ مینوفیکچر ہو رہی ہے، ہو سکتا ہے وہ پروڈکٹ ،جس میں حرام اجزاء بظاہر شامل نہیں ہے، اسی مشین میں مینوفیکچر ہوئی ہو تو اس میں انڈائریکٹ یعنی بالواسطہ طریقے سے حرام انگریڈینٹس، یعنی حرام اجزاء آجائیں، لیکن وہ جو حرام اجزاء ہیں، وہ پروڈکٹ کی ڈسکرپشن (تفصیل) میں لکھے نہ ہوں، تو اس بارے میں رہنمائی کر دیجئے، واضح رہے کہ ظاہری طور پر ایسی پروڈکٹس میں حرام اجزاء کے بارے میں نہیں لکھا ہوتا کہ یہ اجزاء اس کی تیاری میں شامل ہیں، لیکن جیسے کہ میں نے وضاحت کی کہ ہو سکتا ہے کہ تیاری کے دوران حرام اجزا انڈائریکٹ طریقے سے شامل ہو گئے ہوں، لیکن اب کنفرم نہ ہوں، اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ اس کے بارے میں رہنمائی فرما دیجئے،آپ کا بہت بہت شکریہ والسلام جنید علی گلزار
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو انڈائریکٹ طریقے سے مذکور پروڈکٹس میں حرام اجزاء کی شمولیت کا محض شک ہو تو صرف اس بنیاد پراس چیز کو حرام قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ لہذا واضح ثبوت کے بغیر اس چیز سے متعلق شک و شبہ میں پڑنے سے گریز چاہیئے ۔
كما في سنن أبی داؤد: عن النعمان بن بشير قال : سمعت النعمان بن بشير -ولا أسمع أحدا بعده- يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الحلال بين، وإن الحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات -أحيانا يقول: مشتبهة- وسأضرب لكم في ذلك مثلا: إن الله حمى حمى، وإن حمى الله ما حرم، وإنه من يرع حول الحمى يوشك أن يخالطه، وإنه من يخالط الريبة يوشك أن يجسر ( باب اجتناب الشبھات، ج:5، ص: 218، ناشر: دار الرسالۃ العالمیۃ )-
وفی الفقہ البیوع: فالعبرۃ عند الحنفیہ للغلبہ،فان کان الغلب فی مال المعطی الحرام ،لم یجرلہ وان کان الغلب فی مالہ الحلال وسع لہ ذلک۔اھ ( ج: 2، ص: 986، ناشر: مکتبۃ معارف القرآن کراتشی )-
وفي الأشباه والنظائر لابن نجيم: القاعدة الثالثة: اليقين لا يزول بالشك اھ (ص: 56)۔
و في غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر : قوله : الأصل في الأشياء الإباحة إلخ (إلی قوله) أن المختار أن الأصل الإباحة عند جمهور أصحابنا، (إلی قوله) ودليل هذا القول قوله تعالى {خلق لكم ما في الأرض جميعا} (1/ 471)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0