حضرت میں کراچی کا رہنے والا ہوں، میرا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ میرا ایک ورکشاپ ہے ،جو کہ میرے والد صاحب نے کچھ سال پہلے میرے نام کر دیا تھا، اور مالکانہ قبضہ بھی دیدیا تھا، اور آج سے دو سال قبل بھی مجھے کہا تھا کہ میں نے تجھے جو دینا تھا، دیدیا ہے، اور والد صاحب اب بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں،وہ اب بھی میرے پاس ہے ،میں وہاں ورکشاپ چلاتا ہوں، سیکٹر ۷ ڈی ۱، نارتھ کراچی ۔
آپ سے معلوم یہ کرنا ہے کہ اس پلاٹ یا ورکشاپ میں جس کی قیمت اب ایک کروڑ تیس لاکھ روپے ہو گئی ہے، میرے دیگر بہن بھائیوں کا حصہ آئے گا کہ نہیں؟نیز ایک مکان جو میرے والد صاحب نے والدہ کے نام سے خریدا تھا، اور بعد میں ہم سب بہن، بھائی، میری والدہ اور والد صاحب اس میں رہائش پذیر رہے، پھر بہنوں کی شادی ہو گئی ،اور بھائی اپنے مکانوں میں شفٹ ہو گئے ،تو آخر میں میں ہی والدین کے ساتھ رہ گیا تھا، اب والد صاحب نے مجھ سے بھی خالی کرا لیا تو پوچھنا یہ ہے کہ اس مکان میں شرعی لحاظ سے میرا بھی حصہ بنے گا یا نہیں ؟
نوٹ: والد صاحب نے مجھے پلاٹ دیا تھا ورکشاپ میں نے خود بنایا تھا۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور ورکشاپ سائل کی ملکیت ہے، دیگر بہن بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں،اس کے بعد واضح ہو کہ مذکور مکان اگرچہ والد محترم نے اپنی بیوی کے نام کر دیا ہو، مگر جو صورت سوال میں درج ہے ،اس طرح ہبہ کرنے سے والدہ اس مکان کی شرعاً مالک نہیں بنی، بلکہ وہ بدستور والد کی ملکیت اور انہی کی جائیداد ہے ،وہ زندگی میں جیسے چاہیں تصرف کر سکتے ہیں، سائل یا کوئی دوسرا بیٹا بیٹی والد کو تقسیم پر مجبور نہیں کر سکتا، اس میں اپنے حصے کے مطالبہ سے احتر از لازم ہے۔
کما في الدر المختار:(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) (5/ 688)۔
وفى الفتاوى الهندية: ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا هكذا في المحيط (4/ 377)۔
و في الهداية شرح البداية: الهبة عقد مشروع لقوله عليه الصلاة والسلام تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك (إلی قوله) ولنا قوله عليه الصلاة والسلام لا تجوز الهبة إلا مقبوضة (3/ 224)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2