میرا سوال یہ ہیکہ محرم آنے والا ہے محرم میں اسٹال لگتے ہیں میرا شریک بھی اسٹال لگانا چاہ رہا ہے اہل تشیع کے تبرکات کا ، میں سنی ہوں اور میرا شریک اہل تشیع ہے کیا یہ منافع میرے لئے جائز ہیں ؟
وا ضح ہو کہ محرم کے دنوں میں مجالس منعقد کرنا بدعات اور رسومات میں سے ایک رسم اور بدعت ہے ان دنوں میں ایسا اسٹال لگانا جس کی وجہ سے اس بدعت کو مزید تقویت پہنچے اور ان کے ساتھ اس بدعت میں اعانت ہوجائے یہ شرعا درست نہیں ہے اور نہ ایسی اشیاء جو ان بدعات میں استعمال ہوتی ہیں خاص کر وہ اشیاء جو کفریہ عقائد کی علامت ہوتی ہیں، کی خرید و فروخت اور کاروبار جائز ہے ،ایسے کاروبار کی کمائی بھی حلال نہیں اس لئے سائل پر مذکور اسٹال میں کاروبار یا اس میں شرکت سے احتراز لازم ہے ۔
كما قال الله تعالى:وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان .(سورة مائده آیت نمبر 2)
و فى الهندية:ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط.( ج:٤،ص:٤٥٠)
ذمي سأل مسلما على طريق البيعة لا ينبغي للمسلم أن يدله على ذلك؛ لأنه إعانة على المعصية.(ج:٢،ص:٢٥٠)
و فى سنن ابي داود :عن إبن عمر قال قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : من تشبه بقوم فهو منهم .(ج :٢ ، ص:٢٠٣)