کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !
ہمارے ہاں عورتوں کو میراث میں حصہ نہیں دیا جاتا ہے، ہمارے والد کے انتقال کے بعد میرے بھائیوں نے آپس میں والد صاحب کی جائیداد تقسیم کرلی، اور بہن کو حصہ نہیں دیا، میں نےاپنے بھائی کو بھی کہا کہ بہنوں کو حصہ دو، لیکن انہوں نے میری بات نہیں سنی، اور سارا ترکہ آپس میں تقسیم کر لیا، اور کہا کہ بہنوں سے معاف کرا لیں گے، بعد میں بہنوں سے پوچھا گیا ،تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنا حصہ تمہیں دے دیا، اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ اب تو بہنوں نے خود اپناحصہ ہمیں دیدیا ہے، اب تواس میں گناہ ہو گا؟
محض بہنوں کے یہ کہہ دینے سے کہ ہم نے اپنا حصہ تمہیں دیدیا، ان کا حصہ میراث ساقط نہ ہوگا، بلکہ انہیں اب بھی اپنے والد مرحوم کے ترکہ میں حصہ داری کے مطالبے کا حق حاصل ہے، تاہم اگر تمام بہنیں اپنی خوشی اور رضامندی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے اپنا حصہ بھائیوں کو دینا چاہتی ہوں، تو جب والد مرحوم کی جائیداد تقسیم کر کے ان کا حصہ متعین ہو جائے، اس کے بعد اپنی مرضی سے وہ جسے دینا چاہیں اسے دیدیں ،تو ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہو گا، اور مذکور بھائی ان کے حصوں کے مالک بھی بن جائینگے، یا تقسیم سے پہلے تمام بھائیوں سے یا جس بھائی کو وہ اپنا حصہ دینا چاہتی ہوں، اسے اپنا حصہ قیمت میں فروخت کر دیں، اور بعد میں اگر چاہیں، تو اس سے اس کی قیمت بھی معاف کر دیں ،تو اس طرح کرنے سے بھی بھائی، بہنوں کے حصوں کے مالک بن جائینگے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2