میرا اپنی ساس کی وجہ سے اپنے شوہر کے گھر میں رہنا مشکل ھو گیا ہے ، ان کی والدہ سے میری نہیں بن رہی ہے ۔ ہمارا ایک 8 مہینے کا بچہ بھی ہے۔اب جب میں اپنے شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرتی ہوں تو وہ الگ گھر دینے پر راضی نہیں ہیں اور طلاق دینا چاہتے ہیں۔ ساس کے رویے کی وجہ سے میں اپنے میکے میں رہی (شوہر نے گھر سے نہیں نکالا ) اور اس دوران میرے شوہر نے نہ میری خبر لی اور نہ اپنی اولاد کی۔ اب اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ میں بچہ نہیں رکھنا چاہتی تو بچے کے لیے کیا حکم ہے اور یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ شادی کے بعد میرے شوہر نے تحفے میں جو مجھے سونا دیا تھا اور ایک موبائل دیا تھا تو کیا یہ چیزیں واپس کرنی ہوں گی طلاق کی صورت میں بھی اور خلع کی ، دونوں کی صورتوں میں رہنمائی فرمائیں۔
شریعت مطہرہ خاندان کے استحکام، صبر و برداشت، اور رشتوں کے احترام کی تعلیم دیتی ہے۔ بیوی ہو یا شوہر، دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور حلم و بردباری کا مظاہرہ کریں، بالخصوص ساس ،بہو کے تعلقات میں برداشت، حسنِ اخلاق اور افہام و تفہیم سے کام لیں۔لہذا،صورت مسئولہ میں اگر ساس کے رویے میں بےجاسختی یا زیادتی پائی جاتی ہو تواگرچہ سائلہ کےلیے الگ رہائش کامطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن گھر کو ٹوٹنے سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرنا بھی دین کے مزاج کے عین مطابق ہے۔سائلہ کوچاہیےکہ صبر و برداشت کے ساتھ معاملات کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔شوہر کے دل میں اپنی عزت بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کے والدین، خاص کر اس کی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے،جبکہ ساس کو چاہیے کہ وہ بیٹے اور بہو کے درمیان خیر کا ذریعہ بنے، نہ کہ اختلاف کا۔ اپنی بہوسے بیٹیوں جیسا سلوک کریں، تاکہ گھرکاماحول خوشگوارہو۔اسی طرح سائلہ کےشوہر پربھی لازم ہے کہ بیوی اور والدہ کے درمیان اعتدال اور انصاف کا رویہ اپنائے۔ بیوی کے جذبات اور اس کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے اسے تحفظ کا احساس دلائے اور ماں کو بھی نرمی سے سمجھائے۔اگر واقعی ماں کے رویے سے بیوی متاثر ہے، تو مصلحتاً الگ رہائش کا انتظام کرنا بھی جائز اوربہتر ہوسکتاہے۔کیونکہ شوہر کا یہ فرض ہے کہ بیوی اور اولاد کی کفالت، رہائش، اور تحفظ کا انتظام کرے۔بشرطیکہ والدین کو تنہا اور بے سہار ا نہ چھوڑا جائے۔
تاہم،اگرصلح کی کوشش کے باوجود نباہ ممکن نہ ہوتوشوهر كي جانب سے طلاق کی صورت میں شرعاً بچے کی ابتدائی حضانت (نگہداشت) کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، جب تک کہ وہ بچہ رکھنے کی اہل ہو، اور کوئی شرعی ممانعت نہ ہو (مثلاً: بدکرداری یا بچے کو نقصان پہنچانے کا اندیشہ)۔لڑکا سات سال اور لڑکی نو سال تک ماں کی پرورش میں رہتی ہے،اگر سائلہ خود بچہ نہیں رکھنا چاہتیں تو ایسی صورت میں باپ یا باپ کی طرف سے کوئی قابل اعتماد خاتون (مثلاً دادی) کو بچے کی پرورش سونپی جا ئےگی ۔
جبکہ شدید مجبوری کے بغیر شوہر سے طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔نبی اکرم ﷺنےفرمایاجو عورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے شوہر سے طلاق کا سوال کرےاس پر جنت کی خوش بو حرام ہے۔لہذاسائلہ کامذکورعذرکی وجہ سے اپنے شوہرسے مطالبہِ طلاق یاخلع کسی طورپرمناسب نہیں ،جس سے بہرصورت احترازچاہیے ،تاہم اس کے باوجو سائلہ کے مطالبہ طلاق یاخلع پرشوہراس سے علیحدگی اختیارکرنے کافیصلہ کرتےہوئے طلاق یاخلع کے عوض حق مہرکے علاوہ بھی شادی کےبعد جو تحائف سائلہ کو ازدواجی زندگی میں رضاکارانہ طور پر دیے ہوں (مثلاً: زیور، کپڑے، موبائل وغیرہ)ان تحائف کی واپسی کا مطالبہ کرے توسائلہ کےلیے ان چیزوں کوواپس کرنالازم ہوگا ۔
کما فی سنن أبي داود» :عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة»(2/ 268 ت محيي الدين عبد الحميد)
کما فی الجامع الصغير - ومعه النافع الكبير: امرأة اختلعت على أكثر من مهرها والنشوز منها طاب الفضل للزوج وإن كان النشوز منه كره له الفضل وجاز في القضاء(ص216)
و فی الهداية في شرح بداية المبتدي : وإن كان النشوز منها كرهنا له أن يأخذ منها أكثر مما أعطاها ".
وفي رواية الجامع الصغير: طاب الفضل أيضا لإطلاق ما تلونا بدءا ووجه الأخرى قوله عليه الصلاة والسلام في امرأة ثابت بن قيس بن شماس أما الزيادة فلا وقد كان النشوز منها " ولو أخذ الزيادة جاز في القضاء " وكذلك إذا أخذ والنشوز منه لأن مقتضى ما تلوناه شيآن الجواز حكما والإباحة وقد ترك العمل في حق الإباحة لمعارض فبقي معمولا في الباقي " وإن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق ولزمها المال " لأن الزوج يستبد بالطلاق تنجيزا وتعليقا وقد علقه بقبولها والمرأة تملك التزام المال لولايتها على نفسها وملك النكاح مما يجوز الاعتياض عنه وإن لم يكن مالا كالقصاص " وكان الطلاق بائنا " لما بينا ولأنه معاوضة المال بالنفس وقد ملك الزوج أحد البدلين فتملك هي الآخر وهو النفس تحقيقا للمساواة. (2/ 261)
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري : (قوله وإن نشزت لا) أي لا يكره له الأخذ إذا كانت هي الكارهة أطلقه فشمل القليل والكثير، وإن كان أكثر مما أعطاها، وهو المذكور في الجامع الصغير، وسواء كان منه نشوز لها أيضا أو لا فإن كانت الكراهة من الجانبين فالإباحة ثابتة بعبارة قوله تعالى {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] وإن كانت من جانبها فقط فبدلالتها بالأولى، والمذكور في الأصل كراهة الزيادة على ما أعطاها، وينبغي حمله على خلاف الأولى كما ينبغي حمل الحديث عليه أيضا، وهو قوله أما الزيادة فلا لأن النص نفى الجناح مطلقا فتقييده بخبر الواحد لا يجوز لما عرف في الأصول، ولذا قال في فتح القدير إن رواية الجامع أوجه وصحح الشمني رواية الأصل لأحاديث ذكرها. (4/ 83)
وفی فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي :لا يقال: أخذ الزيادة أيضا غير متناول المطلقة لأنها في نشوزهما ونشوزها وحدها ليس نشوزهما. لأنا نقول:تثبت إباحة أخذ الزيادة في نشوزها وحدها بطريق أولى كما بينا، وعلى هذا فيظهر كون رواية الجامع أوجه. نعم يكون أخذ الزيادة خلاف الأولى، ويكون محمل منعه صلى الله عليه وسلم ثابتا من أن يزداد الحمل على ما هو الأولى وطريق القرب إلى الله سبحانه، والله أعلم(4/ 218)