السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
حضرت جی میری شادی کو آٹھ سال ہوئے ہیں، ہماری آج تک ذہنی ہم آہنگی نہیں ہو سکی ،نہ ان کا کوئی ذریعہ معاش ہے، ناہی وہ میرے نان نفقے کا خیال رکھتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ چند غیر معمولی وجوہات کی بنا ءپر مجھے اپنے شوہر سے علیحدگی چاہیے تھی اور وہ نہیں دے رہے تھے اور اب حال ہی میں انہوں نے مجھے کہا ہے کہ میں اپنا سامان لے کر ان کے گھر سے دفع ہو جاؤں ،انہیں میری شکل نہیں دیکھنی اور اگلے ہفتے تک میں ان کو گھر میں نظر نہ آؤں ۔اس صورت میں میرے لیے کیا شرعی حکم ہے ؟
سائلہ نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور الفاظ ان کے شوہر نے کس پس منظر اور کس نیت سے کہے ہیں ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم سائلہ کے شوہر نے مذکور الفاظ " سامان لے کر گھر سے دفع ہوجاؤ" اگرطلاق ہی کی نیت سے کہے ہوں ( جس کا علم شوہر سے پوچھ کرہی ہوسکتاہے) تو ان الفاظ کے کہنے سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے ،لہذا سائلہ عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ، لیکن اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چا ہتے ہوں تو ایسی صورت میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجا ب وقبول کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ اس صورت میں شوہر کو آئند ہ کےلیے فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہوگا ، بشرطیکہ اان الفاظ کے کہنے سے قبل یا بعد میں شوہر نے مزید کوئی طلاق نہ دی ہو، اس لیےآئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کمافی الدر المختار: "والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا (الی قوله)ي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) اھ (كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط:سعيد)
وفی رد المحتار تحت: (قوله فنحو اخرجي واذهبي وقومي) أي من هذا المكان لينقطع الشر فيكون ردا أو لأنه طلقها فيكون جوابا رحمتي اھ (كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج:3، ص:298، ط:سعيد)
وفی الدر المختار: (هي استدامة الملك القائم)(الی قوله) (إن لم يطلق بائنا) فإن أبانها فلا اھ
وفی رد المحتار: تحت (قوله: إن لم يطلق بائنا) هذا بيان لشرط الرجعة، ولها شروط خمس تعلم بالتأمل شرنبلالية قلت: هي أن لا يكون الطلاق ثلاثا في الحرة، أو ثنتين في الأمة ولا واحدة مقترنة بعوض مالي ولا بصفة تنبئ عن البينونة - كطويلة، أو شديدة -، ولا مشبهة كطلقة مثل الجبل، ولا كناية يقع بها بائن اھ(باب الرجعة ج:3 ص:400 ناشر: حلبی)