کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ حلال رزق میں ایک روپیہ حرام کا مل گیا تو پورا رزق متاثر ہوگا یا صرف وہی ایک روپیہ حرام رہیگا ؟
(۲) اس مزدور کی مزدوری کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو ایک بینکار یا کوئی دوسرے حرام آمدنی والے کے ہاں مزدوری کرتا ہے اور اپنی محنت کا ثمرہ لیتا ہے۔ جو سودیا کہ دوسرے حرام سے حاصل ہوتا ہے؟
(1): اگرچہ حرام تو وہی ایک روپیہ ہی ہے، مگر اس کی حرمت کو جانتے ہوئے اسے جائز اور حلال مال میں ملا دینا سخت گناہ کی بات ہے جو موجبِ کراہت ہے۔
(2): اگر اسے معلوم ہو جائے کہ جو تنخواہ اسے دی جا رہی ہے یہ واقعۃً سود یا دیگر نا جائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہے تو اس کا لینا شرعاً جائز نہیں، جبکہ عمومی حالت میں بھی ایسے شخص کی ملازمت سے احتراز بہتر ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: ما يأخذه من المال ظلما ويخلطه بماله وبمال مظلوم آخر يصير ملكا له وينقطع حق الأول فلا يكون أخذه عندنا حراما محضا، نعم لا يباح الانتفاع به قبل أداء البدل في الصحيح من المذهب. اهـ (2/ 292)-
وفيه أیضاً: وما نقل عن بعض الحنيفة من أن الحرام لا يتعدى ذمتين، سألت عنه الشھاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام اهـ. (5/ 98)-