السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ!
مفتی صاحب سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ بندے کو ایک مسئلہ در پیش آیا ہے، وہ یہ ہے کہ مسلمان اگر کسی آغا خانی کیساتھ کا روبار کرے ،اور منافع بھی ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہو تو یہ کاروبار جائز ہے یا نہیں؟
آغا خانیوں کے ساتھ کاروباری شرکت کی اگر چہ گنجائش ہے، مگر اس کی وجہ سے ان کے کفریہ عقائد سے قریب ہونے اور دوسرے مسلمانوں پر عموماً اور صاحبِ معاملہ کی اولاد پر خصوصاً اس کے برے اثرات پڑنے کا قوی اندیشہ ہے، اس لئے اس قسم کے معاملات سے احتراز لازم ہے۔
ففي تفسير القرطبي: قوله تعالى: (فلا تقعدوا معهم حتى يخوضوا في حديث غيره) أي غير الكفر. (إنكم إذا مثلهم) فدل بهذا على وجوب اجتناب أصحاب المعاصي إذا ظهر منهم منكر، لأن من لم يجتنبهم فقد رضي فعلهم، والرضا بالكفر كفر، قال الله عز وجل: (إنكم إذا مثلهم). فكل من جلس في مجلس «1» معصية ولم ينكر عليهم يكون معهم في الوزر سواء اھ (5/ 418)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وهو المفاوضة) فإذا فاوض مسلما توقفت اتفاقا، فإن أسلم نفذت، وإن هلك بطلت، وتصير عنانا من الأصل عندهما اھ (4/ 249)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0