کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں !
میں سیمنٹ کے کاروبار سے وابستہ ہوں، پاکستان کی بہت ساری کمپنیاں جیسے پاکستان سیمنٹ مینو فیکچر، سونا یوریا، اینگرو یوریا اور پاکستان اسٹیٹ آئل سرکار ی و غیر سرکاری ادارے اپنی مصنوعات ملک کے تمام شہروں میں تقریباً یکساں نرخ پر پہنچاتی ہیں یعنی پہنچانے کا کرایہ کمپنی کے ذمہ ہوتا ہے ،دور کے علاقہ کے لئے زیادہ اور نزدیک کے لئے کم کرا یہ دینا پڑتا ہے، کمپنی کے ہر شہر میں ایک یا ایک سے زیادہ ڈسٹری بیوٹر ہوتے ہیں ،تا کہ کمپنی اپنی مصنوعات کو ہر علاقہ اور شہر میں مناسب ریٹ پر پہنچا سکے، اور نزدیک کے علاقہ یا شہر میں بیچنا کمپنی کیلئے زیادہ سودمند ہے ،کیونکہ اس صورت میں کمپنی پر کرایہ کا خرچ کم پڑتا ہے ،دور کے شہر کا ڈسٹری بیوٹر دور کے شہر کے ریٹ پر بکنگ کرتا ہے اور بکنگ کے بعد بعض اوقات مال کمپنی سے ملحقہ شہر یا علاقہ میں اُتارتا ہے ،اس سے یہ ہوتا ہے کہ نزدیک کے شہر یا علاقہ میں مال بہ نسبت فیکٹری کے ریٹ سے کم ریٹ پر پہنچتا ہے، کیونکہ دور کے شہر کا ڈسٹری بیوٹر کمپنی سے زیادہ کرایہ لیتا ہے، جبکہ نزدیک کے شہر یا علاقہ میں کم کرایہ ادا کرتا ہے، مثال کے طور پر لکی سیمنٹ ضلع لکی اور ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی سنگم پر واقع ہے فیکٹری کا ڈیرہ اسماعیل خان اور لاہور کا یکساں ریٹ ہوتا ہے ،کمپنی لاہور کے لئے زیادہ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کے لئے کم کرایہ ادا کرتی ہے ،اب جبکہ لاہور کا ڈسٹری بیوٹر فیکٹری سے مال نکالنے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں اتارتا ہے ،تو ڈیرہ اسماعیل خان کے ریٹ سے یہ مال کم ریٹ پر پڑتا ہے، حالانکہ کمپنی سے اس چیز کی اجازت نہیں ،اور اگر کمپنی کے متعلقہ افسران کو اس بات کا پتہ چل جائے ،تو کچھ دنوں کیلئے ڈسٹری بیوٹر کا مال بند کرتے ہیں، بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ نزدیک کے علاقہ یا شہر میں جودکاندار مال اتارتا ہے، وہ اس کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر نہیں ہوتا ،جبکہ شہر میں کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر موجود ہوتا ہے لیکن دور کے شہر کے ڈسٹری بیوٹر سے مال اسلئے منگواتا ہے کہ کم ریٹ پر پہنچتا ہے یعنی مال اتارنے والے دکاندار پر کمپنی کےاصول لاگو ہوتے ہیں۔
ج:بعض علاقوں یا شہروں میں ڈسٹری بیوٹر نہیں ہوتا، اسلئے دکاندار جہاں سے چاہیں مال منگوا لیتے ہیں، اور بعض اوقات کمپنی والے ڈسٹری بیوٹر کو جوریٹ دیتے ہیں ،وہ وقتی طور پر زیادہ ہوتا ہے ،جس میں ہمیں کچھ نفع نہیں ہوتا کیا ایسی صورت میں ہم دور والے ڈسٹری بیوٹر کا مال خرید کر نفع کما سکتے ہیں؟ اب آپ حضرات سے درجِ ذیل امور قابل دریافت ہیں:
۱: کیا نزدیک کا دکاندار یا ڈسٹری بیوٹر دور کے شہر یا علاقہ کے ڈسٹری بیوٹر سے مال اتار سکتا ہے؟ اگر نہیں تو کیوں؟
۲: جس کمپنی کا ہمارے شہر میں ڈسٹری بیوٹر نہ ہوتو کیا میں جہاں سے چاہوں مال منگوا سکتا ہوں؟
۳: اگر کسی کمپنی کا مال میں منگوانا چاہتا ہوں،جبکہ میں اس کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر نہیں ہوں، حالانکہ اس کمپنی کا ڈسٹری بیوٹر پہلے سے ہمارے شہر میں موجود ہے ،تو کیا میں ڈسٹری بیوٹر نہ ہونے کے باوجود اس کمپنی کا مال منگوا سکتا ہوں؟
۴:جس وقت کمپنی کا ریٹ وقتی طور پر زیادہ ہوتا ہے، تو کیا اس وقت میں کمپنی کے دور کے ڈسٹری بیوٹر سے مال وقتی طور پرمنگوا سکتا ہوں؟ اس سلسلے میں بعض احباب سے رابطہ ہوا تو کسی نے جائز کسی نے مکروہ اور کسی نے تقویٰ کے خلاف بتایا ہے۔ برائے مہربانی جواب کو دلائل کے ساتھ بعجلتِ ممکنہ حل فرما کر احسان فرمائیں تاکہ آپ حضرات کے علم سے ہمارے کاروبار شرعی اصولوں پر گامزن ہوسکیں۔
اگر چہ مذکور تمام صورتیں فی نفسہٖ شرعاً جائز ہیں، مگر کسی شخص کا اگر کمپنی سے اس قسم کا معاہدہ ہو، یا ان میں سے کسی صورت کا اختیار کرنا قانوناً منع ہو تو اس کی پاسداری کرتے ہوئے اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي الفتاوى الهندية: وإذا شرط شرطا يفيد من وجه ولا يفيد من وجه إن أكده بالنفي تجب مراعاته كما إذا قال بعه في سوق كذا اھ (3/ 590)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير ( إلى قوله) أن الوكيل يتقيد بما قيده به المؤكل الخ (4/ 2997)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0