کاروبار

فیکٹری میں مال چوری ہونے کی صورت میں ضامن کون ہوگا؟

فتوی نمبر :
81094
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

فیکٹری میں مال چوری ہونے کی صورت میں ضامن کون ہوگا؟

السلام علیکم مفتی صاحب!
بعد از سلام عرض ہے کہ ہمارا مال ایک فیکٹری میں بنتا تھا، ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہم لوگ فیکٹری والے کو دھاگہ اوربیم فراہم کرتے ہیں(بیم دھاگے کے بھرے ہوئے رولے کو کہتے ہیں) اور لوم والے کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اگر مال کا وزن کم ہو جائے، تو فیکٹری والا ذمہ دار ہوتا ہے، اور اس کا فیصلہ باہمی افہام وتفہیم سے ہوتا ہے ،اب فیکٹری میں ڈاکہ پڑ گیا ،اور ڈاکو فیکٹری میں سے کافی مال لوٹ گئے، جس میں دھاگہ، کپڑا اور لوم والے کا مشین کا سامان بھی شامل تھا ،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس میں فیکٹری والا کتنا ذمہ دار ہے ؟اور اس میں کتنا مال اور کس طریقے سے ادا کرےگا ؟ آیا وہ دینے کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کتنا مال دے گا ؟بتا کر مشکور فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں مذکور فیکٹری مالکان شرعاً ’’امین‘‘ اور انہیں دھاگہ پارٹی کی طرف سے دھاگے وغیرہ کے جو بیم بھیجے جاتے ہیں، وہ اگر بغیر کسی قسم کی تعدی اور زیادہ یا سستی اور کوتاہی کے ضائع ہو جائیں، تو فیکٹری کا مالک اس نقصان کا شرعاً ضامن نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ڈاکہ کی وجہ سے بیم پارٹی کا جو نقصان ہوا ہے ،اگر یہ نقصان فیکٹری مالک اور مزدوروں کی تعدی اور زیادتی یا ان کی سستی اور کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہوا ہو،تب تو وہ بیم پارٹی کے نقصان کا ضامن نہیں ،اور اگر اس نقصان میں مذکور فیکٹری کے کسی فرد کی دخل اندازی ہو ،یا ان کی طرف سے کسی قسم کی تعدی اور زیادتی یا سستی اور کوتاہی کے نتیجے میں ڈکیتی ہوئی ،تو اس صورت میں مذکور فیکٹری کا مالک بیم پارٹی کے نقصان کا ضامن ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وفي الهداية شرح البداية: قال ومن استأجر خبازا ليخبز له في بيته قفيزا من دقيق بدرهم لم يستحق الأجر حتى يخرج الخبز من التنور لأن تمام العمل بالإخراج فلو احترق أو سقط من يده قبل الإخراج فلا أجر له للهلاك قبل التسليم فإن أخرجه ثم احترق من غير فعله فله الأجر اھ (3/ 233) ۔
وفي الفتاوى الهندية: الخفاف إذا ترك الخف الذي دفع إليه ليصلحه في الحانوت فسرق ليلا إن كان فيه حافظ أو في السوق حارس لا يضمن اھ (4/ 344)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی سیف اللہ جمیل رحمہ اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 81094کی تصدیق کریں
0     636
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ڈراپ شپنگ کا حکم - is Drop Shiping Halal in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 3
  • پرپال آن لائن کمپنی کا شرعی حکم - PrPal Earning in Islam

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • فاریکس کا کاروبار کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • ایڈورٹائزمنٹ کمپنی میں انوسٹمنٹ کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 1
  • گوہرشاہی والوں کی پروڈکٹ کی خریدفروخت

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ٹیکسی چلانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • StreamKar ایپ پر لائیوآنے اورکمائی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • کاروبار کی نیت سے پرندوں کی خرید و فروخت اور بریڈنگ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 1
  • سردی میں خریدے ہوئے پنکھے گرمی میں مہنگے داموں فروخت کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   کاروبار 0
  • ویڈیوگیمزکی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   کاروبار 0
  • حرام مال سے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • پے رول( payroll financing ) فائنانسنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • الیکٹرونکس آلات ٹی وی،ایل سی ڈٰی وغیرہ بیچنے کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قسطوں پر خرید و فروخت کا درست طریقہ کار

    یونیکوڈ   کاروبار 1
  • آن لائن اپلیکیشن(IDA App)کے ذریعے کاروبار کرکے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • حکیم کا انگریزی دوا پیس کر مریض کو دینا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بائنانس ایپ کے ذریعہ کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • قادیانی کو کپڑے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • مروّجہ اسلامی بینکوں کے ساتھ معاملات کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعہ ، شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • سگریٹ اور نسوار کاکا روبارکرنا

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • بیع عینہ کی تعریف اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • کرپٹو کرنسی میں فیوچر ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   کاروبار 2
  • تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار

    یونیکوڈ   کاروبار 0
  • تکافل اور انشورنس میں فرق

    یونیکوڈ   کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات