السلام علیکم مفتی صاحب!
بعد از سلام عرض ہے کہ ہمارا مال ایک فیکٹری میں بنتا تھا، ان کا طریقہ کار یہ تھا کہ ہم لوگ فیکٹری والے کو دھاگہ اوربیم فراہم کرتے ہیں(بیم دھاگے کے بھرے ہوئے رولے کو کہتے ہیں) اور لوم والے کی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اگر مال کا وزن کم ہو جائے، تو فیکٹری والا ذمہ دار ہوتا ہے، اور اس کا فیصلہ باہمی افہام وتفہیم سے ہوتا ہے ،اب فیکٹری میں ڈاکہ پڑ گیا ،اور ڈاکو فیکٹری میں سے کافی مال لوٹ گئے، جس میں دھاگہ، کپڑا اور لوم والے کا مشین کا سامان بھی شامل تھا ،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس میں فیکٹری والا کتنا ذمہ دار ہے ؟اور اس میں کتنا مال اور کس طریقے سے ادا کرےگا ؟ آیا وہ دینے کا ذمہ دار ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو کتنا مال دے گا ؟بتا کر مشکور فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور فیکٹری مالکان شرعاً ’’امین‘‘ اور انہیں دھاگہ پارٹی کی طرف سے دھاگے وغیرہ کے جو بیم بھیجے جاتے ہیں، وہ اگر بغیر کسی قسم کی تعدی اور زیادہ یا سستی اور کوتاہی کے ضائع ہو جائیں، تو فیکٹری کا مالک اس نقصان کا شرعاً ضامن نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ڈاکہ کی وجہ سے بیم پارٹی کا جو نقصان ہوا ہے ،اگر یہ نقصان فیکٹری مالک اور مزدوروں کی تعدی اور زیادتی یا ان کی سستی اور کوتاہی کی وجہ سے نہیں ہوا ہو،تب تو وہ بیم پارٹی کے نقصان کا ضامن نہیں ،اور اگر اس نقصان میں مذکور فیکٹری کے کسی فرد کی دخل اندازی ہو ،یا ان کی طرف سے کسی قسم کی تعدی اور زیادتی یا سستی اور کوتاہی کے نتیجے میں ڈکیتی ہوئی ،تو اس صورت میں مذکور فیکٹری کا مالک بیم پارٹی کے نقصان کا ضامن ہوگا۔
وفي الهداية شرح البداية: قال ومن استأجر خبازا ليخبز له في بيته قفيزا من دقيق بدرهم لم يستحق الأجر حتى يخرج الخبز من التنور لأن تمام العمل بالإخراج فلو احترق أو سقط من يده قبل الإخراج فلا أجر له للهلاك قبل التسليم فإن أخرجه ثم احترق من غير فعله فله الأجر اھ (3/ 233) ۔
وفي الفتاوى الهندية: الخفاف إذا ترك الخف الذي دفع إليه ليصلحه في الحانوت فسرق ليلا إن كان فيه حافظ أو في السوق حارس لا يضمن اھ (4/ 344)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0