حضرات علماء کرام مسئلہ ذیل میں کیا فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی قسطوں کی دکان ہے، خریدار کو جو چیز فروخت کرتا ہے ،اس کی چند شرائط ہیں، جن کی فوٹو کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے، سوال یہ ہے کہ ان شرائط کے ساتھ یہ کاروبار کیسا ہے، آیا جائز ہے یا ناجائر؟ اور یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں، دوسراسوال یہ ہے ایسے شخص کا بھائی یا بیٹا نماز تراویح یا دوسری نماز پڑھائے جو کہ اس کے کاروبار میں برابر کا شریک ہے،تو اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے، اور اگر نماز پڑھ لی ہے ،تو وہ واجب الاعادہ ہے یا نہیں ؟ مفصل جواب عنایت فرمائیں بینوا توجروا
منسلکہ ورقہ میں مندرج ذیل شرائط کے ساتھ قسطوں کا کاروبار کرنا قطعاً جائز نہیں، جس سے احتراز واجب ہے، اور ایسا کاروبار کرنے والا شرعاً فاسق ہے ،اور فاسق کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، لہٰذا ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، تاہم ایسے شخص کی اقتداء میں جو نمازیں ادا کی گئی ہیں، وہ شرعاً درست ہو چکی ہیں ان کا اعادہ ضروری نہیں۔ واللہ اعلم !
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0