کیا فرماتے ہے علماءِ کرام اور مفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چھ بھائی اور ایک بہن ہے، والدین الحمد لله حیات ہیں، ہم سب نے جب ہوش سنبھالا ،تو میرے والد نے مجھ سے بڑے بھائی اشفاق کو ڈیڑھ لاکھ روپے (15،0000) دیے، تاکہ وہ ایک ٹریکٹر خریدے،بھائی نے اس میں کچھ اپنے پیسے ملا کر ٹریکٹر خریدا،اس میں کچھ خاطر خواہ منافع نہ ہوا، تو ڈھائی لاکھ (25,000 )کابیچ کر کسی ساتھی کے ساتھ پارٹنرشپ میں 7 لاکھ روپے کا ٹرک خریدا، بایں طور کہ ڈھائی لاکھ( 250000)اشفاق بھائی کے اور ڈھائی لاکھ (250000) اس کے پارٹنر کے بھی تھے ،اور باقی دو لاکھ (20000) قسطوں میں ادا کرنا تھا، اس ٹرک سے پارٹنر کا حصہ نکالنا اور قسط نکالنا دشوار ہوا تھا ، اس لئے اشفاق بھائی نے وہ ٹرک اس پارٹنر کے حوالے کر دیا کہ چلاؤ ،اس پارٹنر کو بھی کوئی خاطر خواہ منافع نہیں ہو رہا تھا، اس لئے وہ ٹرک انہوں نے اشفاق بھائی کو واپس کر دیا ، بھائی نے شراکت کا حصہ اور قسط کی رقم ادا کرنے کیلئے غیر قانونی لکڑی اسمگلنگ کرنا شروع کر دیا ،اور اس طرح پارٹنر کا حصہ اور قسطیں ختم ہوگئیں، اور اس غیر قانونی لکڑی کی اسمگلنگ سے منافع کما کر ایک پلاٹ خریدا، ان واقعات کے دوران ہم سب بھائی بے روزگار تھے، اور بڑے بھائی سے خرچہ لیتے تھے،اور اس دوران میرے والد اور میرے سب سے بڑے بھائی الطاف مرحوم کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوا ،والد صاحب نے اسے حصہ دے کر الگ کر دیا ، پھر اشفاق بھائی نے لکڑی اسمگلنگ کر کے اس پلاٹ پر مکان بنایا۔ سائیڈ میں چھ مرلے کا پلاٹ بچ گیا، اور جب بھی جھگڑا ہوتا تو والد صاحب کہتے کہ یہ سارا میرے ٹریکٹر کی کمائی ہے، جبکہ یہ ساری کمائی لکڑی بیچنے سے ہوئی، بھائی نے والد صاحب کے انہی طعنوں کی وجہ سے وہ ٹرک دو سال ویسے ہی کھڑا رکھا ،تاکہ مجھے شراکت کا طعنہ نہ دے ،تو بھائی نے سوچا کہ ہر بار شراکت کا طعنہ دیا جاتا ہے، تو کیوں نہیں ایسا کام کروں جو اپنا ذاتی ہو۔ 2006 میں والد کی زمین کو 13 لاکھ بیس ہزار( 132000) کی بیچ کر پیسے والدہ کو لا کر دیے، اور والدہ سے کہا کہ یہ پیسے مجھے دس دن کے لئے ادھار دے دو، انہی پیسوں سے5 لاکھ روپے کا ایک پلاٹ خریدا بعد میں پتہ چلا کہ اس مکان پر کیس ہے ،اور آج تک وہ پیسہ مالک مکان کے پاس ادھار ہے، اور باقی پیسے گاڑیوں کی خرید وفروخت میں ڈوب گئے، پھر اپنے چچا سے مل کر کسی سے تین لاکھ (300000) روپے ادھار لے کر شراکت میں کام شروع کیا، (ٹھیکداری کا) ان واقعات کے دوران 2007 میں میں نے نوکری جوائن کی۔ 2005سے میں گھر میں خرچہ دینے لگا اور ڈیڑھ سال تک دیتا رہا، جبکہ اس سے پہلے میرا بڑا بھائی اشفاق ہی گھر کا خرچہ چلاتا تھا، باقی بھائی بے روزگار تھے ،ڈیڑھ سال بعد اشفاق بھائی نے مجھ سے کہا کہ گھر کا خرچہ مت چلاؤ ،اپنی تنخواہ اپنے پاس جمع رکھو، تمہاری نوکری مستقل نہیں ہے ،مستقل میں تمہیں کام آئینگے، گھر کا خرچ میں چلاؤنگا، حتی کہ میری شادی بھی بھائی نے کروائی ۔
جب اشفاق بھائی نے چچا کے ساتھ مل کر ٹھیکیداری کا ذاتی کام شروع کیا تھا،تو اس وقت انہیں ایک بہت بڑا پروجیکٹ ملا ، اس میں سے کچھ کام اس شرط پر میرے حوالے کیا کہ نقصان تمہارا اور پروفٹ پر سنٹ (فیصد) کے لحاظ سے طے کیا ، میں نے کچھ پیسے ادھار لیے کہ وہ کام شروع کر دیا۔ چونکہ وہ پروجیکٹ اشفاق بھائی کے نام پر تھا۔ اس لئے سارے پیسے ان کے اکاؤنٹ میں جمع ہو گئے۔ جو بعد میں بھائی سے میں نے وصول کر لیے، پھر جون 2010ء میں ہم اسی طرح ٹھیکیداری نظام میں اپنا ذاتی کما رہے تھے۔ والد صاحب نے ایک دن اشفاق بھائی سے کہا کہ آپ نے اب تک جو کچھ کمایا ہے۔ اس میں آپ کے سارے بھائی شریک ہیں، مگر میرا بھائی نہ مانا، اس نے کہا کہ پر میری اپنی کمائی ہے۔ اپنی محنت ہے اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں اور وہ 6مرلے کا پلاٹ خالی رہ گیا تھا۔ اس پر بھی بھائی نے ایک گھر تعمیر کیا، والد صاحب کے ان شراکت والے طعنوں سے تنگ آکر بھائی گھر چھوڑ کے چلا گیا ۔ اس کے جانے کے بعد میں نے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بٹھا کر یہ کہا کر آج کے بعد اپنا اپنا کھائیں گے۔ اشفاق بھائی جب الگ ہو کر چلے گئے، تو گھر والوں نے سوچا کہ الگ ہی رہنا ہے۔ تو گھر میں الگ ہو کر رہے، میں بھائی کے پاس گیا اور اسے گھر لے آیا، جب وہ گھر میں آیا اس نے دیکھا کہ سارے بے روز گار تھے تو پھر سے گھر کا خرچہ چلانے لگا ۔آج سے سات، آٹھ ماہ قبل میں نے اپنے اشفاق بھائی سے کہا کہ آپ پر بہت بوجھ ہے آپ سب کا خرچہ برداشت کرتے ہیں، اپنا اپنا خرچہ خود چلا ئینگے اور اپنی بیوہ بھابھی کو مشترکہ چلائینگے اور اب تک الگ الگ خرچ چلا رہے ہیں ۔ اس بات کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ میں نے ایک سرکاری ٹھیکے میں اپنے چھوٹے بھائی کو پھر ٹھیکیدار بنایا اور اسے اچھا ریٹ دیا ، شریک نہیں بنایا، میرے والدین بھی بہت خوش ہوئے کہ میں نے اسے کام دیا اور ریٹ بھی اچھا دیا ۔ اس کے علاوہ اور بھی ٹھیکوں میں اپنے چھوٹے بھائی کو بطور منی ٹھیکیدار (چھوٹا ٹھیکدار) استعمال کرتا رہا ، شریک نہیں بنایا، کیونکہ سب الگ الگ تھا۔ میں نے اپنی والدہ اور بھائیوں کو بٹھا کر جو بات کی تھی کہ آج کے بعد اپنا اپنا کھائینگے اس بارے میں والدہ کہتی ہے کہ ہم نے وہ بات مذاق سمجھی تھی، جبکہ والد صاحب کا کہنا ہے کہ میں نے اسے الگ نہیں کیا۔ یہ خود الگ ہوا، اس لئے اس کی کمائی میں ہم سب برابر کے شریک ہیں۔ مفتی صاحب ! اب آپ قرآن وحدیت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ ہماری کمائی میں ہمارے دیگر بھائی اور والدین شریک ہیں کہ نہیں ؟ جب ہم مشترک رہتے تھے اس وقت جو کما یا تھا وہ بھائیوں کو دیکر اور والدین کو دے کر اپنے حق سے سبکدوش ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟ یا ہماری ذاتی کمائی میں بھی سب شریک ہونگے؟
اس میں شبہ نہیں کہ ٹریکٹر خریدنے کے بعد سے 2006ء تک کی آمدن میں والد موصوف کی معاونت شامل تھی، اور اگر اس دوران وہ خود بھی کام کرتے رہے ہوں، تو پھر ان کی کفالت ہونے کی وجہ سے یہ سب مال والد موصوف کی ملکیت ہے ، جسے وہ حسبِ منشاء اولاد میں تقسیم کر سکتے ہیں، اور برابری بہتر اور افضل ہے۔
تاہم 2006ء کے بعد فروختگیِ زمین سے حاصل ہونے والی رقم والدہ سے قرض لیکر کام کرنے کی صورت میں مذکور رقم بلا شبہ قرض شمار ہوگی ،جس کا واپس لوٹانا مسمیٰ اشفاق پر لازم ہے،جبکہ اس کے بعد کے کاروبار میں جن جن بھائیوں سے کاروباری معاونت کی گئی تھی ،اگر انہیں اس معاونت کا معاوضہ دیا جاتا رہا ،جیسا کہ سوال سے بھی بخوبی معلوم ہو رہا ہے،تو اس لئے یہ سارا مسمی اشفاق کی ہی ملکیت شمار ہوگا۔ ورنہ باہمی معاملات کی مکمل تفصیلات لکھ کر دوبارہ حکم ِشرعی معلوم کیا جائے ۔
وفي الفتاوى الهندية: أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب اھ (2/ 329)۔
وفي تنقيح الفتاوى الحامدية: تنقيح الفتاوى الحامدية: سئل في ابن كبير ذي زوجة وعيال له كسب مستقل حصل بسببه أموالا ومات هل هي لوالده خاصة أم تقسم بين ورثته أجاب هي للابن تقسم بين ورثته على فرائض الله تعالى حيث كان له كسب مستقل بنفسه. وأما قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء ثم اجتمع لهما مال يكون كله للأب إذا كان الابن في عياله فهو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق لهما وكون الابن في عيال أبيه فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب وانظر إلى ما عللوا به المسألة من قولهم ؛ لأن الابن إذا كان في عيال الأب يكون معينا له فيما يضع فمدار الحكم على ثبوت كونه معينا له فيه فاعلم ذلك ا هـ . (4/ 420)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0