کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خالد نے ابھی تک اس رقم پر قبضہ بھی نہیں کیا کہ خالد دوبارہ زید سے وہی چاول کم قیمت میں خریدتا ہے، کیا خالد کے لئے اس چاول کو کم قیمت پر خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر خالد زید سے رقم پر قبضہ کرنے سے پہلے چاول کو مہنگے دام خریدنا چاہے، تو کیا مہنگے دام خریدنا جائز ہے یا نہیں؟ قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
مذکور معاملہ میں جب تک قیمت پر قبضہ ہو کر پہلی بیع تام نہ ہو، اس وقت تک بائع اول کا اسے کمی بیشی کے ساتھ خریدنا شرعاً جائز نہیں، اسی طرح بیع اول میں بھی اس قسم کی شرط لگا کر بیع کرنا جائز نہیں، ان دونوں امور سے احتراز لازم ہے۔
ففي شرح الوقاية: (وشراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد ثمنه الأول) (2/ 120)-
وفي اعلاء السنن: قوله عن امرأته انھا دخلت اھ أقول: دل ھذا الحدیث علیٰ أنه لا یجوز الشراء سواء قبض المشتری الاول المبیع أم لا اھ (۱۴/ ۱۳۵)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0