بخدمت جناب مفتی محمد نعیم صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی
مفتی محمد نعیم صاحب! گزارش عرض ہے کہ ہماری انتظامیہ اپنے کچھ ڈیپارٹمنٹ کنٹریکٹ ( تیسری پارٹی ) پر دینے جا رہی ہیں، اس ضمن میں اگر مندرجہ ذیل صورتیں پائی جاتی ہیں، تو ان حالات میں کس پر ذمہ داری آئیگی۔
۱: اگر کنٹریکٹر ورکرز کی تنخواہ دیر سے ادا کر رہا ہو ۔
۲:اگر کنٹریکٹر ورکرز کی فلاح و بہبود کے حوالے سے اقدامات سر انجام دینے سے قاصر رہا۔
براہ مہربانی مندرجہ بالا مسائل پر اپنا ماہرانہ مشورہ بطورِ فتویٰ سے ہمیں آگاہ کر دیں کہ آیا اس ضمن میں کیا کمپنی پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر چہ ملازمین کنٹریکٹر کے ہوں ۔تعاون کیلئے شکر گزار !
نوٹ :۔ ہم ایک ڈیپارٹمنٹ کو ٹھیکداری نظام کے مطابق کسی ٹھیکدار کے حوالے کرنا چاہتے ہیں، اس صورت میں مالک کے ذمہ کیا چیزیں لازم ہونگی اور ٹھیکدار کے ذمہ کیا ہونگی ؟
تنقیحات: ۱۔ متعلقہ کمپنی سرکاری ہے یا غیر سرکاری ؟
۲:مذکور ورکرز قانوناً پختہ ہیں یا کچے؟
۳: مذکور ڈیپارٹمنٹ سے کون سا ڈیپارٹمنٹ مراد ہے اور اسے کنٹریکٹ پر دینے کی ضرورت کیونکر پیش آئی ہے؟
۴: نیا کنٹریکٹر اپنے شعبہ سے کتنی وابستگی رکھتا ہے ؟ (۵) :جب یہ کنٹریکٹر ورکزو کی فلاح و بہبود سے نا آشنا ء ہے تو اسے یہ ذمہ داری کیونکر دی جارہی ہے ؟
جواب تنقیح (1) :متعلقہ کمپنی غیر سرکاری ہے ۔ (۲) :مذکور ورکرز قانوناً پختہ ہیں۔ (۳) :مذکور ڈیپارٹمنٹ سے مراد ایڈ منسٹریشن ہے۔ جبکہ کنٹریکٹ پر دینےکی وجہ اخراجات کو کنٹرول کرنا ہے ۔ (۴) :نیا کنٹریکٹر تقریباً ۱۵ سال سے اس شعبہ سے وابستہ ہے۔ (۵) :یہ کنٹریکر ورکرز کی فلاح و بہود سے نا آشناء نہیں، بلکہ وہ کمپنی کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اس کا پابند ہوگا ۔ کمپنی میں دوائیاں تیار کی جاتی ہیں ۔
واضح ہو کہ جب انتظامیہ کی طرف سے کمپنی کا مذکور ڈیپارٹمنٹ کنٹریکٹ پر دیدیا گیا ہے، اور اس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ورکر ز بھی کنٹریکڑ کے ہی ہیں، تو ایسی صورت میں ان ورکرز سے متعلق تمام ذمہ داریاں جیسا کہ وقت پر تنخواہ دینا اور ان کی فلاح وبہود کیلئے اقدامات کرنا اگر کسی باقاعدہ معاہدے وغیرہ کے تحت بجائے کمپنی کے کنٹریکٹر پر لازم ہو گئی ہوں ،تو ان کا پورا کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہے، اور عند الله بھی وہی ان کا جواب دہ ہو گا، اس سلسلہ میں کمپنی مالکان مأخوذ نہیں ہونگے،اور اگر دونوں کے درمیان کوئی خاص معاہدہ نہ ہوا ہو ،یا ورکرز کی سہولیات اور فلاح و بہبود سے متعلق عملی اقدامات قانوناً کمپنی کے ذمہ لازم ہوں، تو اس صورت میں کمپنی مالکان کا اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی بجائے پہلو تہی اور ٹال مٹول سے کام لینا یا اسے کنٹریکر کی ذمہ داری سمجھنا ورکررز کے ساتھ زیادتی ہے۔ اس صورت میں کمپنی مالکان پر لازم ہے کہ وہ اس ذمہ داری کا احساس کرنے کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کریں تا کہ مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل ہو سکے ۔ اور اگر کسی خاص قضیہ سے متعلق باہمی نزاع ہو تو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر دوبارہ حکمِ شرعی معلوم کیاجائے ، تو بہتر ہے۔
ففي مشكاة المصابيح: عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته" اھ (2/ 339)۔
وفيها ايضا: وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لا تمار أخاك ولا تمازحه ولا تعده موعدا فتخلفه". رواه الترمذي (3/ 60)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ولو بين تعين) أي لو بين وقت الاستحقاق في العقد تعين، ولذا قال في العزمية هذا إذا لم تكن الأجرة معجلة أو مؤجلة أو منجمة وهذا قولهم جميعا اھ (6/ 14) والله اعلم بالصواب!
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0