ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ گاڑی والا جو بھی مال لا تا ہے ،تو جہاں پر خالی ہوتا ہے، تو اکثر وہاں پر کرایہ نہیں دیتا ، یہ کرایہ پھر دفتر میں ملتا ہے،اسی دن یا ایک دو تین تا آٹھ دس دن بعد بھی مل سکتا ہے،تو یہ بیلٹی پھر گاڑی والا ہم لوگوں کو دیتا ہے، سو یا دو سو روپے تک ہم لوگ گاڑی والے کو کم دیتے ہیں ،یعنی اگر 8000 روپے بیلٹی ہو تو ہم گاڑی والے کو 7850 روپےدیتے ہیں، یہ سویا دو سو روپے ہمارای مزدوری ہوتی ہے، اس میں ہم پر خرچہ بھی کرتے ہیں، بس مزدہ کرایہ اور روٹی وغیرہ اور اس میں بینک،ڈاکہ چور ی، گم ہو جانا، جیب مار نا، یہ بھی ہو سکتا ہے اور ہوا ہے۔ قرآن اور سنت میں جیسا ٹھیک ہو، ہم ویسا کر ینگے انشاء اللہ!
صورتِ مسئولہ میں مذکورہمعاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں ، البتہ اس معاملے کو جائز طریقہ سے کرنا بھی ممکن ہے، وہ اس طرح کہ بنیادی طور پر اس معاملہ میں الگ الگ دو عقد کریں، ایک یہ کہ ٹرک ڈرائیور یا گاڑی کا مالک اپنی رسید یعنی ووچر کی رقم وصول کرنے کیلئے رقم دینے والے کو اپنا وکیل بنائے ،اس طور پر کہ فلاں تاریخ ،فلاں دن اور فلاں شخص سے ہماری اتنی رقم مثلا ۱۰۰۰۰ روپے وصول کر لیں ، پھر جتنی رقم اس بل سے کاٹنی ہے، وہ رقم باہمی رضا مندی سے باقاعدہ اجرت کے طور پر طے کرلیں کہ میں اتنی رقم اجرت میں لوں گا، اس کے بعد رقم دینے والے شخص سے کہے کہ آپ مجھے مثلاً ۹۵۰۰ روپے قرض دیدیں ،اور مقررہ تاریخ پر آپ جب یہ بل وصول کریں ، تو میں نے آپ سے جو ۹۵۰۰ روپے قرض لیے ہیں،یہ اس ۱۰۰۰۰ روپے سے وصول کر لینا اور باقی ۵۰۰ روپے آپ کے آنے جانے اور محنت وغیرہ کی مزدوری ہے، اس لئے وہ باقی یعنی 500 روپے میں آپ کو اجرت مقررہ میں چھوڑتا ہوں۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0