جناب مفتی! عرض ہے کہ میرا تعلق میرپور خاص سے ہے ،گزشتہ دنوں میرے سامنے ایک ادارے کا نام آیا، جو تکافل کے طریقہ کار پر کام کر رہا ہے ،اور بحیثیت شریعہ بورڈ چیئرمین مفتی منیب الرحمان اس ادارے کے مالی معاملات کو دیکھ رہے ہیں،اور یہ بیمۂ زندگی کا شرعی اور اسلامی نعم البدل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
۱:کیا اس ادارے میں بطور ملازم کام کرنا جائز ہے ؟
2: لوگوں کو تکافل سسٹم کا ممبر بنانا جائز ہے ؟
۳:کیا داؤد تکافل فیملی بیمۂ زندگی کا شرعاً اسلامی حیثیت سے بیمۂ زندگی کا مجاز ہے؟
واضح ہو کہ داؤد فیملی تکافل کے بارے میں ہمیں مکمل معلومات نہیں ہیں، اسلئے اگر سائل’’ داؤد تکافل‘‘کا پورا طریقہ کار اور معلومات فراہم کر دے ،تو اس پر غور و فکر کرنے کے بعد اس کے حکمِ شرعی سے بھی آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0