میں جاننا چاہتا ہوں قطر تکامل فیملی کے بارے میں کہ کیا وہ تمام مذہبی علماء کے نزدیک مکمل حلال ہے ؟ اس کمپنی میں کام کرنا اور اس کی پالیسی لینا حلال ہے؟ میرے دوست نے مجھے کہا کہ یہ مشکوک ہے اور ہمارے پاس صرف ایک زندگی ہے اور اگر فیصلے والے دن اللہ تعالٰی نے یہ کہا کہ یہ نا قابل قبول ہے تو پھر ہم لوگ کہاں جائیں گے اللہ تعالی یہ عذر قبول نہیں کرینگے کہ بعض علماء اس کے جواز کی طرف گئے ہوئے تھے ، ممکن ہو تو جلد جواب دیجئے ۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ پاک قطر فیملی تکافل کمپنی کا طریقہ کار رباو قمار اور غرر سے پاک اور وقف پر مشتمل ہونے ونے کی وجہ سے باہمی تعاون و تبرع پر مبنی ہے، جو انشورنس کا جائز متبادل ہے، اور یہ حکم متعقلقہ ادارے کے اصولِ شرعیہ پر مشتمل طریقہ کار اور اس کے معتمد علماءِ کرام کے زیر نگرانی کام کرنے کی بناء پر ہے، اور عوام کے لئے ان علماءِ کرام پر اعتماد کرنا بلا شبہ جائز ہے۔ البتہ اگر کسی عالمِ دین کو علمی نقطہ نظر کے اعتبار سے اس طریقہ کار پر کلام ہو تو اسے چاہیئے کہ دیگر معتمد اور متعلقہ کمپنی کی شرعی راہ نمائی کرنے والے علماءِ کرام کے ساتھ مل بیٹھ کر بات کرنے اور اس نظام کی اصلاح کی فکر کرے تاکہ معاشرۂ اسلامی کی ضرورت بہتر طریقہ سے پوری ہو محض اختلاف رکھنا اچھی بات نہیں اس سے احتراز چاہیئے ۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وأخرج الخطيب أن هارون الرشيد قال لمالك بن أنس: يا أبا عبد الله نكتب هذه الكتب يعني مؤلفات الإمام مالك ونفرقها في آفاق الإسلام لنحمل عليها الأمة، قال: يا أمير المؤمنين، إن اختلاف العلماء رحمة من الله تعالى على هذه الأمة، كل يتبع ما صح عنده، وكلهم على هدى، وكل يريد الله تعالى، (1/ 68)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0