السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! بعد سلام عرض گزارش کی جاتی ہے کہ ہم لوگ چار بھائی ہیں، دو بڑے اور دو چھوٹے ہیں، یہ بڑے بھائی ان چھوٹوں پر ایک اٹھارہ(۱۸) سال عمر میں بڑا ہے ،اور دوسرے بائیں 22 سال عمر میں بڑا ہے ،ان دو بڑے بھائیوں نے بغیر والد کے سرمایہ کے کاروبار شروع کیا، کاروبار میں انہوں نے (ایک ٹرک گاڑی) اور دکان خرید لیا،دکان کو سامان سے بھر دیا،تو وہ چھوٹے بھائی بھی ان کے ساتھ دکان میں لگ گئے ،اور کاروبار میں مدد کرتے رہیں ،اور کاروبار اور بھی بڑھ گیا سرمایہ بڑوں کا ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس بڑوں کے سرمایہ میں ان چھوٹوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟
نوٹ: جب یہ دونوں بڑے بھائی مذکورہ کا روبار شروع کر رہے تھے ،تو اس وقت والد صاحب کے ملکیت میں صرف ایک کمرہ تھا، جس میں سب کی رہائش تھی، بعد میں ان دونوں بھائیوں نے خود مزدوری کر کے گھریلوں اخراجات بھی پورا کرتے رہیں، اور ساتھ یہ کاروبار بھی شروع کیا، اور بعد والے بھائی اس وقت چھوٹے تھے، لیکن جب بڑے ہو گئے ،تو اپنے بھائیوں کے ساتھ دوکان پر کام کرتے تھے، ان کی باقاعدہ کوئی اجرت یا تنخواہ وغیرہ مقرر نہیں تھی، تاہم سب مل کر کام کرتے تھے، اور اخراجات سب کے ایک ساتھ تھے ،اور تاحال سب کی رہائش ایک ساتھ ہے۔
نوٹ نمبر۲:بذریعہ فون رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جو بڑے دو بھائیوں نے کاروبار شروع کیا اس وقت والد حیات تھے، مگر کاروبار صرف بھائیوں کے پیسوں سے شروع ہوا، اس کے بعد والد انتقال ہوا۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتاہے،سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں مذکور بیان اگر درست اور حقیقت پر مبنی ہو، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی یا جھوٹ سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ مذکور کا روبار صرف دو بھائیوں نے اپنی محنت مزدوری کا سرمایہ لگا کر شروع کیا ہو،اس میں والد و غیرہ کی کوئی رقم یا سب کے ذمہ قرض لی ہوئی کوئی رقم شامل نہ ہو تو یہ کاروبار ان دو بھائیوں ہی کا ہے، دیگر ورثاء کا اس میں کوئی حق نہیں ، جبکہ چھوٹے دونوں بھائی اس دوکان پر کام کرنے کی وجہ سے اجرت مثل کے حق دار ہونگے۔
کما في الفتاوى الخيرية : سئل في رجل مات عن ابن كبير وابنين صغيرين لا عن تركة فريا هما الكبير ونشأ في خدمته ومن جملة عائلته مع ابنه المقارب لهما في السن وحصلوا جميعا بالكسب والعمل مالاً ولم يكن لهم مال واختلفوا فيه فالكبير يدعيه كله لنفسه أنهم كانوا معينين له بالعمل وابنه یدعى ربعه بعمله وأخوان يدعيان ثلثيه بعملهما وان ابنه لا حصة له معهما لكونه معينا والده فما الحكم فى ذالك ( اجاب) إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثا بيقين والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته اھ (۲) (٥٨)۔
وفي تنقيح الفتاوى الحامدية: وأجاب أيضا عن سؤال آخر بقوله إن ثبت كون ابنه وأخويه عائلة عليه وأمرهم في جميع ما يفعلونه إليه وهم معينون له فالمال كله له والقول قوله فيما لديه بيمينه وليتق الله فالجزاء أمامه وبين يديه وإن لم يكونوا بهذا الوصف بل كان كل مستقلا بنفسه واشتركوا في الأعمال فهو بين الأربعة سوية بلا إشكال وإن كان ابنه فقط هو المعين والإخوة الثلاثة بأنفسهم مستقلين فهو بينهم أثلاثا بيقين والحكم دائر مع علته بإجماع أهل الدين الحاملين لحكمته اھ (4/ 421) ۔والله اعلم بالصواب!
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0