کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کراچی میں گاڑی کو چھیننا روزمرہ کا معمول ہے، اسلحہ کے زور پر گاڑی چھینی جاتی ہے، اور کبھی واپس نہیں ملتی ہے، پولیس اور حکومت کو سب معلوم ہے، لیکن وہ اپنے طور پر اور مل کر بھی کچھ نہیں کر پاتے ہیں،مزید یہ کہ گاڑیوں میں سے سامان چرانا جیسے شیشے، ریڈیو، ٹیپ، سی ڈی، ڈی وی ڈی سسٹم، گیس سسٹم وغیرہ روز کی بات ہے، اور عام ہے، اخبارات اور دوسرے ذرائع ابلاع کے ذریعے اس پر مسلسل لکھتے ہیں،لیکن بے سود ہے۔ میں نے اپنے دفتری قرض بغیر سود کے ذریعے کار خریدی ہے ،اور کئی مرتبہ میرے کاغذات، اور مندرجہ بالا چیزیں گاڑی سے چرائی گئی ہیں،میں اس حالت سے بچنے کے لئے گاڑی کا بیمہ کرنا چاہتا ہوں، یہاں کراچی میں کوئی اسلامی بیمہ کا ادارہ نہیں ہے، اس لئے مجھے کسی بھی بیمہ ادارے سے گاڑی کا بیمہ کرنا ہوگا، میں نے جو کار خریدی ہے، وہ بہت ہی پسندیدہ ہے ،گاڑی چھیننے پر مفاہمت کرنے کا مطلب ہے کہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوں، اس سلسلے میں اس طرح کی کیفیت میں کیا حکم ہے؟
اگرچہ مروّجہ بیمہ پالیسی ربوا اور قمار کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور اس سے احتراز لازم ہے۔
تاہم اگر آئے دن کے دیگرگوں حالات کے پیش نظر کسی نے ایسی پالیسی لے لی ہو، اور پھر کسی حادثہ کے پیش نظر گاڑی کا نقصان یا وہ گاڑی ہی ضائع ہو گئی ہو تو اس صورت میں پالیسی ہولڈر متعلقہ بیمہ کمپنی سے اس نقصان کی تلافی میں فقط اتنی مدد لے سکتا ہے ،جتنی رقم وہ اب تک کے پریمیم اور قسطوں کی صورت میں جمع کروا چکا ہے، اس سے زائد کا لینا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففي حاشية ابن عابدين: أن التجار إذا استأجروا مركبا من حربي يدفعون له أجرته، ويدفعون أيضا مالا معلوما لرجل حربي مقيم في بلاده، يسمى ذلك المال: سوكرة على أنه مهما هلك من المال الذي في المركب بحرق أو غرق أو نهب أو غيره، فذلك الرجل ضامن له بمقابلة ما يأخذه منهم، وله وكيل عنه مستأمن في دارنا يقيم في بلاد السواحل الإسلامية بإذن السلطان يقبض من التجار مال السوكرة وإذا هلك من مالهم في البحر شيء يؤدي ذلك المستأمن للتجار بدله تماما، والذي يظهر لي: أنه لا يحل للتاجر أخذ بدل الهالك من ماله لأن هذا التزام ما لا يلزم. (4/ 170)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0