ایک زمین جو کہ مسمیٰ گل زمان کی ملکیت میں تھی، گل زمان نے خوشحال خان اور جہانگیر خان دو بھائیوں کو ہبہ کر دی۔ خوشحال خان اور جہانگیر خان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے مسمیٰ ملنگ خان اور بہرام خان ان کے وارث بنے، ان دونوں نے اپنی یہ جائداد مسمیٰ شراب خان کو قیمتاً فروخت کر دی،اس مذکورہ زمین میں چار کا ایک درخت ہے۔ اب ایک شخص مسمیٰ ستارہ خان دعویٰ کرتا ہے کہ یہ درخت میرے دادا نے لگایا تھا، لہٰذا اس کا مالک میں ہوں۔ اور یہ دعویٰ پہلے مالکان میں سے کسی پر نہیں کیا، بلکہ آخری مالک شراب خان پر بھی خریداری کے ۳۵ سال بعد یہ دعویٰ کر رہا ہے تو اس صورت میں یہ درخت کس کا ہوگا۔
زمین کی بیع میں درخت ، گھاس وغیرہ یعنی زمین سے متعلق اس کے تمام توابع اس کی بیع میں ہی داخل ہوتے ہیں، مذکورہ درخت کا بھی یہی حکم ہے کہ یہ خریدار مسمیٰ شراب خان کی ہی ملک میں ہے۔ شخصِ مذکور مسمیٰ ستارہ خان پر لازم ہے کہ وہ اپنے باطل دعویٰ سے احتراز کرے۔
ففی الفتاوى: ثم إن محمدا رحمه الله تعالى ذكر أن الشجر يدخل في بيع الأرضين من غير ذكر ولم يفصل بين المثمرة وغير المثمرة ولا بين الصغيرة والكبيرة والأصح أن الكل يدخل من غير ذكر كذا في الفتاوى الصغرى سواء كانت للحطب أو غيره وهو الصحيح كذا في الخلاصة اھ الهندية (3/ 33) ۔
وفي فتاوى قاضي خان: رجل اشترى أرضاً فيها أشجار ولم يذكر شيئاً دخل الأشجار المثمرة في البيع واختلفوا في غير المثمرة والصحيح أنها تدخل اھ (ص: 234)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0