جناب مفتی صاحب ا لسلام علیکم!
عرض یہ ہے کہ ہماری ٹائروں کی دکان ہے، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس گاہگ آتا ہے اور ان کو ٹائروں کی ضرورت ہوتی ہے ،اور وہ ٹائر ہمارے پاس نہیں ہوتے، لیکن ہم گاہگ سے بات طے کر لیتے ہیں اور رقم بھی وصول کر لیتے ہیں، پھر بعد میں ہم ٹائر دوسرے دوکان والے سے لیکر گاہگ کو دیتے ہیں، تو اس صورت میں ہمارے لئے شریعت کا کیا حکم ہے، اس طرح کی خرید وفروخت کے متعلق اور اس طرح کاروبار سے جو منافع حاصل ہو ،وہ حلال ہے یا نہیں؟قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
ایسی صورت میں دوکاندار کو چاہیئے کہ وہ گاہک کو صاف صاف یہ بتا دے، اس وقت ہمارے پاس یہ موجود نہیں مارکیٹ سے لیکر دیدیں گے ،یا ہم لیکر لگا دیں گے ،اور اس پر ہماری مزدوری اتنی ہوگی، اس طرح اس ٹائر کی اصل مالیت اور اپنی بازار سے لانے کی مزدوری اور لگانے کی مزدوری بتانا ضروری ہے، اس کے علاوہ مبہم معاملہ کرنا وغیرہ درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح: (وعن حكيم بن حزام) بكسر الحاء المهملة وزاي بعدها (قال «نهاني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أن أبيع ما ليس عندي») كعبد آبق ولم يدر محله وطائر في الهواء وسمك في الماء. رواه الترمذي وفي رواية له) أي للترمذي (ولأبي داود والنسائي) أي أيضا (قال) أي حكيم (قلت: يا رسول الله يأتيني الرجل فيريد مني البيع) أي المبيع كالصيد بمعنى المصيد كقوله - تعالى - {أحل لكم صيد البحر} [المائدة: 96] أي مصيده (ليس عندي) حال من البيع وفي شرح السنة وبعض نسخ المصابيح بالواو (فأبتاع) أي أشتري (له من السوق) قال ابن الملك: هذا يحتمل أمرين: أحدهما أن يشتري له من أحد متاعا فيكون حلالا وهذا يصح، (إلی قوله) وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد. (5/ 1937)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0