ایک کمپنی موٹر سائیکل قسطوں پر دیتی ہے، جس کی صورت یہ کہ کل رقم موٹر سائیکل کی 42 ہزار روپے ہے ۔ ان میں سے چھ ہزار روپےکمپنی ایڈوانس مانگتی ہے اور کا غذات اور انشورنس کے اخراجات بھی تقریباً چھ ہزار تک پہنچ جاتے ہیں، تو کل ۱۲۰۰۰ ابتداءً جمع کر وانی پڑیگی، کا غذات اور انشورنس کے ۶۰۰۰ میں سے کچھ بینک کی اپنی کیشن بھی ہے، مگر بینک کا واسطہ صرف اتنا ہے کہ اسے ہم نے ابتدائی 12000 دینا ہے ،اور پھر ہر ماہ موٹر سائیکل کی قسط وہاں جمع کرانی ہے ،باقی موٹر سائیکل کی لین دین اور قیمت کی بات چیت ساری کمپنی سے ہے ۔ انشورنس یہ ہوگا کہ اگر گاڑی جل گئی، تو کمپنی نئی گاڑی دیگی ،اور اسی طرح اگر چھن گئی ،تو بھی کمپنی نئی گاڑی دیگی ۔ تو اب پوچھنا یہ ہے کہ:
۱۔ انشورنس اگر کمپنی کی طرف سے لازم ہو کہ اس کے بغیر گاڑی نہ مل سکے ،یا یہ کہ خریدار خود کرائے ،کمپنی کی طرف سے ضروری نہ ہو ،دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے ؟
۲۔ ماہانہ قسطوں میں اگر کوئی قسط رہ جائے، تو اگلے ماہ گذشتہ ماہ اور اس ماہ کی ہی قسط اداکرنا پڑیگی، اس سے زائد جرمانہ نہ ہوگا یا اگر دیر سے ادا کی گئی تو جرمانہ ہوگا۔ دونوں صورتوں کا حکم قلم بند فرمائیں۔
۳۔ اگر کمپنی یہ شرط لگائے کہ جب تک قسطیں پوری نہ ہوں آپ گاڑی کسی کو بیچ نہیں سکتے ہو یا ہدیہ نہیں کر سکتے ہو یا یہ کہیں کہ ہمیں صرف قسطیں چاہیئے، اب آپ گاڑی بیچیں یا کسی کو ہدیہ دیں، اس سے ہمیں کوئی غرض نہیں۔ توان دونوں صورتوں کا کیا حکم ہے؟
سوال میں مذکورہ معاملہ کئی ایک وجوہات کی بناء پر شرعاً جائز نہیں، لہذا مذکور طریقہ کے مطابق معاملہ کرنے سے مکمل احتراز واجب ہے،البتہ انشورنس کرنے یا کرانے کا معاملہ اگر متعلقہ کمپنی کی اپنی صوابدید پر ہو ،اس میں خرید نے والے کا کوئی بھی عمل دخل نہ ہو ،اسی طرح قسطوں میں تاخیر ہونے پر کسی قسم کا کوئی جرمانہ وغیرہ لازم نہ آتا ہو تو اس صورت میں مذکور معاملہ کی گنجائش ہے ورنہ نہیں ۔
کمافي الدر المختار: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔
و فی الهداية شرح البداية: ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى { وأحل الله البيع } (3/ 22)۔
وفیھا أیضا: وكل شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه وهو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لا يبيع المشتري العبد المبيع لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا اھ (3/ 48)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0