پرندوں کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ان پرندوں کو قید کر کے ان کی افزائش کرنا مقصود ہوتا ہے، تا کہ ان کی نسل میں اضافہ ہو، اور پھر انہیں فروخت کر کے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل ہو سکے۔
پرندوں کا کاروبار کرنا اور انہیں ایسے پنجرے وغیرہ میں رکھنا ،جہاں وہ بقدرِ ضرورت اُڑ بھی سکتے ہوں ،اور انہیں دانہ پانی بھی دیا جاتا ہو تو اس صورت میں انہیں نسل بڑھانے وغیرہ کے لئے رکھنا جائز اور درست ہے۔
كما في الدر المختار: (وصح بيع الكلب) ولو عقورا (والفهد) والفيل والقرد (والسباع) بسائر أنواعها حتى الهرة وكذا الطيور اھ (5/ 226)-
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وأما للاستئناس فمباح) قال في المجتبى رامزا: لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته، ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك اهـ (إلی قوله) أقول: لكن في فتاوى العلامة قارئ الهداية: سئل هل يجوز حبس الطيور المفردة وهل يجوز عتقها، وهل في ذلك ثواب، وهل يجوز قتل الوطاويط لتلويثها حصر المسجد بخرئها الفاحش؟ فأجاب: يجوز حبسها للاستئناس بها اھ (6/ 401)-
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0