کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی کیلئے تبرعاً فی سبیل اللہ کچھ کام کرتا رہا ،مثلاً فیکٹری سے اس کے لئے مال نکلواتا رہا، لیکن ایک مرتبہ اس نے زیادہ مال کا آرڈر دیا، اب جب یہ شخص فیکٹری سے لینے گیا، تو فیکٹری والوں نے بڑے آرڈر کے باوجود وہی پرانا دام رکھا ،لیکن انہوں نے ایک اسکیم نکالی ہے ،مثلاً 20 ڈبہ خریداری پر 10 ڈبہ فری ہونگے، اب یہ شخص کہتا ہے کہ یہ فری ڈبے میں اپنے پاس رکھوں گا ،اور مالِ معین اس شخص کو دونگا ،اور یہ شخص کہتا ہے کہ میں یہ ڈبے اپنی کوشش کا عوض لیتا ہوں ،تو کیا یہ منافع لینا اس شخص کیلئے درست ہے؟
۲۔ اگر یہ شخص کچھ ڈبے (نہ کہ کل ڈبے ) اس شخص کے سامنے رکھ کر کہے کہ یہ تجھے بطور اسکیم کے ملے ہیں ،اور وہ اجازت دیدیتا ہے کہ آپ رکھ لے ،تو کیا پھر اس صورت میں کل ڈبے لینا جائز ہوگا یا نہیں ؟
اگر یہ شخص یوں کرے کہ مال کا آرڈر آنے کے بعد خود اپنی رقم سے مال خریدے اور بیع کی نیت کرتے ہوئے اس کو مال دیدے اور اسکیم کے ڈبے اپنے پاس رکھ لے تو کیا پھر جائز ہو جائےگا یا کہ نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور جب تبرعاً بطور وکیل کام کرتا رہا ،تو اس صورت میں اس کی خریداری، منافع اور نکلنے والے اسکیم کے ڈبے سب مؤکل (یعنی دوسرے شخص) کے ہیں، اور شخصِ مذکور کیلئے ان میں سے کچھ لینا درست نہیں، البتہ اگر وہ اپنے مؤکل کو مذکورہ صورتِ حال سے مکمل آگاہ کردے اور وہ اسے اجازت دیدے ،یا خود دیدے ،یا وکیل اسے پہلے اپنی خریداری اور بعد میں مؤکل پر اپنے بیچنے کا بتا دے اور وہ اسے منظور کرلے ،تو اس صورت میں مذکورہ اسکیم کے ڈبوں کا لینا درست ہوگا ورنہ نہیں۔
کمافي حاشية ابن عابدين: نقل في البحر عن الفوائد أن صورة الرسالة أن يقول كن رسولا عني في قبضه أو أمرتك بقبضه أو أرسلتك لتقبضه أو قل لفلان أن يدفع المبيع إليك وقيل لا فرق بين الرسول والوكيل في فصل الأمر بأن قال اقبض المبيع فلا يسقط الخيار اهـ وذكر في البحر من كتاب الوكالة عن البدائع أن الإيجاب من الموكل أن يقول وكلتك بكذا أو افعل كذا أو أذنت لك أن تفعل كذا ونحوه اهـ فهذا صريح في أن الأمر والإذن توكيل اھ (4/ 600)-
وفي شرح المجلة : لا يشترط اضافة العقد إلی المؤکل بالبیع والشراء والإجارة والصلح عن اقرار فان لم یضف الوکیل إلی مؤکله بإضافته إلی نفسه صح أیضاً وعلی کلتا الصورتین لا تثبت الملکیة إلا لمؤکله اھ ( ۴/ ۴۷۲) -
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0