کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا مکان تھا برائے فروخت ،دلال آیا کہ ہمارے پاس خرید کنندہ ہے، دلال اور خریدار دونوں آئے مکان کا سودا ہوا /8,90,000 پر، اس سودے میں ساڑھے سات لاکھ روپے مکان مالک کو ادا کیے گئے ، ایک لاکھ چالیس ہزار بقایا ہوئے ۔ دلال نے مکان مالک کو کہا کہ مجھے نو ہزار روپے دو، کیونکہ یہ ہماری مزدوری ہے۔ تین چار دن بعد وہ دلال اور خریدار آئے ،اور مکان کے مالک کو کہا کہ مکان واپس کرو ،مکان کے مالک نے کہا ٹھیک ہے، واپس کرو، مالک مکان نے سات لاکھ اکتالیس ہزار روپے واپس کردیے ،مالکِ مکان نے کہا دلال کو کہ نو ہزار آپ واپس کردو ، دلال نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے ،مالک مکان نے کہا کہ سودا تو واپس ہوا تو یہ نو ہزار روپے آپ کا حق کیسے بنتا ہے، لہذا یہ نو ہزار جو کہ دلال نے لیے ہیں، یہ واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ اور یہ دلال کے لئے حلال ہیں یا حرام؟ کیا یہ نو ہزار روپے دلال واپس کرےگا یا مالک مکان ؟ جواب تحریر فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
مکان کی واپسی میں بیچنے والے کا کوئی عمل دخل نہ ہو، بلکہ خریدار کی طرف سے ہی کسی عذر وغیرہ کی بنیاد پر ہو تو مالکِ مکان دلال سے وہ پیسے واپس لیکر خریدار کو واپس کر سکتا ہے، دلال کا بلاوجہ اسے روکے رکھنا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ (بحوالہ حلال وحرام کے احکام : ص ۲۳۶) -
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0