کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ماوے یا گٹکے کا سامان لاکر گھر میں ماوہ یا گٹکا بنا کر فروخت کرے، اس کاروبار کی آمدن سے جو پیسہ آتا ہے، اسے گھر کے اخراجات میں استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اس کاروبار پر قانوناً پابندی بھی ہے، جو شخص قانوناً پابندی کے باوجود یہ کاروبار کرے، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ پیسہ حلال ہے یا حرام ؟
ماوے اور گٹکے کی خرید وفروخت اور کاروبار فی نفسہ مباح ہےاور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی گھریلو استعمال میں لانا جائز ہے، مگر اس پر چونکہ قانوناً پابندی عائد کی گئی ہے، اس لئے اس کے خلاف کرنے کی وجہ سے قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہونے کے علاوہ یہ کاروبار کرنا اپنی عزت اور مال کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: أمر السلطان إنما ينفذ إذا وافق الشرع الخ
وفی الشامیة: (قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ(5/422)۔
وفی الدر المختار:(وصح بیع غیر الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون الخ
وفی الشامیة: (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها اھ(6/456)۔
وفی الدر ایضاً: والتتن یدعی شاربه انه لایسکر،وان سلم له فانه مفتر وھو حرام لحدیث احمد عن ام سلمة قالت: نھی رسول اللہ ﷺ عن کل مسکر ومفتر،قال: ولیس من الکبائر تناوله المرة والمرتین،ومع نھی ولی الامر عنه حرم قطعاً،علیٰ ان استعماله ربما اضر بالبدن اھ(6/456)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0