السلام علیکم! میرا سوال ہے کہ میری ہارڈویئر سنیٹری ویئر اور پینٹ کی دکان ہے ،اگر دکان پر مستری یا پلمبر کسٹمر لیکر آتا ہے تو اس کے بدلے میں کمیشن کی ڈیمانڈ کرتا ہے ،کیا میرے لیے کمیشن دینا صحیح ہوگا جیسا کہ باقی دکاندار کمیشن دیتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل نےاگر مستری یا پلمبر کے ساتھ گاہک کی فراہمی پر متعینہ کمیشن کا باقاعدہ معاہدہ کیا ہو ،اور اس عقد کے نتیجہ میں وہ گاہک کو مطلوبہ اشیاء کی قیمتوں میں کسی قسم کا اضافہ نہ کرتا ہو ،بلکہ معمول کے نرخ پر ہی وہ اشیاء اسے فراہم کرتا ہو ،تو ایسی صورت میں سائل کیلئے طےشدہ کمیشن دینا اور مستری یا پلمبر کا اسے لینا ہر دوامور شرعاً جائز اور درست ہیں ۔
کما فی رد المحتار: مطلب في أجرة الدلال [تتمة]قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ(ج6 ص63 ط:سعید)۔