میں نے آ ن لائن کام شروع کیاہے۔اس کام میں مجھے کچھ ایپس وغیرہ کو لائک کرنا پڑتا ہے ہر لائک پر100روپے ملتے ہیں۔جس گروپ میں یہ کام آ تا ہے وہاں پر تین اسی طرح کے کام کرنے کے بعد ایک انویسٹمنٹ آتی ہے جس میں ہمیں کچھ پیسے لگانے پڑتے ہیں اور بعد میں ہمیں منافع کے ساتھ رقم واپس دی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کے جس کاروبار میں پیسے لگے وہاں سے منافع آیا۔نیز12گھنٹے مسلسل کام کرنے پر بونس بھی ملتا ہے۔ کیا یہ سب جائز ہے؟ کیا یہ کام میں کر سکتا ہوں۔اگر انویسٹمنٹ والا کام نہ کیا جائے تو اس صورت میں یا انویسٹمنٹ کے ساتھ، کیا یہ جائز ہے؟ مہربانی کر کے یہ بھی بتا دیں کے جو رقم میں نے کما لی اگر یہ کام حرام ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
آجکل مختلف ناموں سے اس طرح کی مختلف اپلیکیشن موجود ہیں جس میں لوگوں سےانویسٹمنٹ کے نام پر سرمایہ وصول کیا جاتا ہےاور روزانہ یا ما ہانہ کی بنیاد پر پُرکشش منافع کا لالچ دے کر اچھے خاصے لوگ ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں،حالانکہ عملاً اس رقم کے ذریعے کوئی کاروبار نہیں کیا جاتا،بلکہ لوگوں کومطمئن کرنے کے لیے یا تو انہیں کچھ اشتہارات/ایپس (جو جائز اور ناجائز امور پر مشتمل ہوتے ہیں) دیے جاتے ہیں جس پر کلک /لائک کرکے انہیں اس کی اجرت دی جاتی ہے ،اور یہ کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے،اور اس کے علاوہ ان میں کئی دیگر شرعی خرابیاں (جیسے اجارہ فاسدہ، سود ،جوا ،دھوکہ فراڈاور بے حیائی کو عام کرناوغیرہ) پائی جاتی ہیں،لہذا یہ پورا طرزِ عمل ہی دھوکہ دہی اورجھوٹ پرمبنی فعل ہونے کےساتھ ساتھ جمع کردہ رقم کے ضائع ہونے کا سبب بھی ہے،اس لیے اس طرح کی آن لائن ایپس کے ذریعے پیسے کمانا اور ان میں رقم انویسٹ کرکے منافع حاصل کرنا ہر دوامور شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے،جبکہ سائل نے آن لائن ایپس پر لائک کرکے اب تک ذاتی رقم کے علاوہ جو نفع کمایا ہے اگر وہ اس کے پاس موجود ہو تو اس کو بلا نیتِ ثواب کسی مستحق شخص کو صدقہ کرے اور اپنے اس فعل پر بصدقِ دلِ توبہ و استغفار کرتے ہوئے آئندہ کیلئے جائز اور حلال روزگار کے طریقہ سے رزق حاصل کرنے کا اہتمام کرلے۔
کما فی صحيح البخاري: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان “ إلخ(باب علامۃ المنافق ج: 1، ص: 16، ط: بیروت)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: وعنہ (( أن رسول اللہ ﷺ مر علی صبرۃ طعام فأدخل یدہ فیھا فنالت أصابعہ بللا فقال: ما ھذا یاصاحب الطعام ؟ قال: أصابہ السماء یارسول اللہ قال: أفلا جعلتہ فوق الطعام حتی یراہ الناس، من غش فلیس منی ))”رواہ مسلم“إلخ۔
قال العلامۃ تحت:(قولہ من غش) أی خان وھو ضد النصح (فلیس منی) أی لیس ھو علی سنتی وطریقتی إلخ( کتاب البیوع، باب المنھی عنھا من البیوع، ج: 5، ص: 1935، ط: دارالفکر بیروت )۔
وفی الدر المختار: ( ھی ) لغۃ اسم للأجرۃ وھو ما استحق علی عمل الخیر، ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ اجرک ( تملیک نفع ) مقصود من العین ( بعوض ) حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دابۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولاأجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین إلخ۔
وفی رد المحتار تحت: (قولہ مقصود من العین) أی فی الشرع و نظر العقلاء، بخلاف ما سیذکرہ فإنہ وإن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ ولا ولیس من المقاصد الشریعۃ إلخ( کتاب الإجارۃ، ج: 6، ص: 4، ط: سعید )۔
وفی البسوط للسرخسی: والربح الحاصل بکسب خبیث سبیلہ التصدق بہ إلخ( کتاب الودیعۃ، ج:11، ص: 112، ط: دار المعرفۃ )۔