میں ایک ذاتی مسئلے پر آپ سے اسلامی شریعت کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میری شادی گزشتہ سال ہوئی تھی اور میں اپنے والدین کے ساتھ مشترکہ خاندانی نظام میں رہتا ہوں۔ ہمارا گھر ایک کنال کا ہے جس میں 8–9 کمرے ہیں۔ میں نیچے والی منزل پر والدین کے ساتھ رہتا ہوں، جبکہ میرا بھائی اپنی بیوی کے ساتھ اوپر کے حصے میں رہتا ہے۔ اس کی بیٹی (یعنی میری بھتیجی) نچلی منزل پر اپنی دادی کے ساتھ رہتی ہے۔ میرے بارات والے دن کھانے کے انتظامات کو لے کر میرے سسرال والوں کی طرف سے جو کچھ ہوا، اس پر میرے خاندان کے افراد بہت ناراض ہوئے۔ اگلے دن میری والدہ نے میری بیوی سے سختی سے بات کی، جس پر وہ رو پڑی اور اس نے کہا کہ وہ میرے گھر پر نہیں رہنا چاہتی۔ بعد میں خاندان کے بڑوں نے معاملے کو سنبھالا اور وقتی طور پر حل کر لیا۔ اس واقعے کے بعد سے اب تک مسائل مسلسل چل رہے ہیں، کیونکہ میری والدہ کو میری بیوی کا طرزِ زندگی بالکل پسند نہیں۔ میری والدہ مجھے دن کے وقت اپنے کمرے میں جانے یا بیوی کے ساتھ وقت گزارنے کی اجازت نہیں دیتیں، وہ چاہتی ہیں کہ میں صرف رات کو ہی اپنے کمرے میں جاؤں، یا دن میں صرف کسی خاص ضرورت کے وقت۔ ہماری نجی گفتگو بھی دوسروں کی موجودگی میں ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ اگر میں اپنے کمرے میں کام کر رہا ہوں اور میری بیوی ساتھ ہو، تو میری والدہ کو وہ بھی گوارا نہیں۔ دوسری طرف، میری بیوی چاہتی ہے کہ میں اس کے ساتھ بغیر کسی رکاوٹ کے وقت گزاروں، اور ہماری زندگی میں کسی کی مداخلت نہ ہو۔ وہ چاہتی ہے کہ میں ہر ہفتے اس کے میکے جاؤں، صرف اس کے ساتھ، اور کوئی اور ساتھ نہ جائے۔ گھر کے معاملات زیادہ تر میری والدہ ہی چلاتی ہیں، جبکہ میرے والد صاحب خاموش طبع ہیں اور ان کی رائے کا اثر کم ہوتا ہے۔ یہ صورتِ حال میری بیوی کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا سبب بن رہی ہے، اور ہم دونوں یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ شاید اس ماحول میں شادی کو جاری رکھنا ممکن نہ رہے۔ اسی دوران پاکستان نیوی میں "فزیو تھراپسٹ" کی ایک پوسٹ کے لیے درخواستیں مانگی گئیں۔ میری بیوی نے درخواست دی، منتخب ہو گئی، اور اب ان شاء اللہ اگلے ماہ کراچی میں PNS شفا میں سب لیفٹیننٹ کے طور پر اپنی خدمات کا آغاز کرے گی، ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد۔ ان کا یونیفارم ساڑھی ہے، جیسا کہ پاکستان کی مسلح افواج میں رائج ہے، لیکن وہ صحیح طریقے سے سر اور گردن اسکارف سے ڈھانپتی ہیں۔ میری والدہ، جو خود مکمل شرعی پردہ کرتی ہیں، کا ماننا ہے کہ میری بیوی کی ملازمت، اس کا یونیفارم، اور کراچی نیول اکیڈمی میں رہائش شریعت کے خلاف ہے، اور میں گناہ گار ہوں کہ میں اس بات کی اجازت دے رہا ہوں۔ دوسری طرف، میری بیوی کا مؤقف ہے کہ وہ آئندہ 7–10 سال تک اپنی نوکری نہیں چھوڑے گی، اور وہ مجھ پر بھروسا کرنا چاہتی ہے کہ میں اس سے کیے گئے وعدے نبھاؤں گا۔ وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اگر آئندہ حالات بہتر ہوئے تو وہ نوکری چھوڑنے پر غور کر سکتی ہے۔ فی الحال، وہ کراچی میں خواتین آفیسرز کے لیے مخصوص رہائش گاہ میں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور کوشش کر رہی ہے کہ اسلام آباد میں تبادلہ ہو جائے۔
واضح ہوکہ شریعتِ مطہرہ نے زندگی کے تمام معاملات میں عدل، حسنِ معاشرت، والدین کے ساتھ احسان، اور بیوی کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیاہے۔ لہذاسائل کوبھی چاہئیے کہ وہ ان تمام شرعی تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرے۔
بیوی کے ساتھ محبت پیش آنااوراسے خلوت کاموقع، اور ذہنی سکون فراہم کرنا شوہر کی اہم ذمہ داریوں میں سے ہے، چنانچہ اگر خاندانی نظام اس تعلق میں خلل ڈال رہا ہو تو حکمت کے ساتھ والدین سے بات کر کے اصلاح کی کوشش کی جائے۔
جبکہ بیوی کی موجودہ ملازمت، اگر حدودِ شرعیہ (مکمل شرعی پردہ، مردوں سے اختلاط سے اجتناب، اور حیا و وقار) کے ساتھ ہواورجائےملازمت (کراچی) میں اس کے ساتھ سائل یاکوئی محرم موجودہواوراسے محرم کے بغیرشرعی مسافت کی بقدرتنہاسفرکرنے کی نوبت بھی پیش نہ آتی ہوتواس ملازمت کواختیارکرنے کی شرعاگنجائش ہے۔
اس لیے اگرسائل کی بیوی پاکستان نیوی میں ایسی جگہ تعینات ہو جہاں وہ خواتین کے ساتھ محدود ماحول میں کام کرتی ہو، اور مکمل شرعی پردہ، باحیاء لباس (مثلاً ساڑھی کو اسکارف و عبایہ سے ڈھانپنا) اختیار کرتی ہے، تو ایسی ملازمت بذاتِ خود ناجائز نہیں،تاہم اگر والدہ، بیوی کے جائز طرزِ زندگی یا ملازمت سے نالاں ہیں، تو سائل کو والدہ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے حکمت، نرم گفتگو ، اور مصلحت سے بات کرکے انہیں مطمئن کرنےکی کوشش کرنی چاہئیے۔
کماقال اللہ تعالی فی التنزیل : وَقُل لِّلۡمُؤۡمِنَٰتِ يَغۡضُضۡنَ مِنۡ أَبۡصَٰرِهِنَّ وَيَحۡفَظۡنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ [النور: 31]
وفی التنزیل : يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّۚ [الأحزاب: 59]
أحکام القرآن-للتهانوی : وبالجملة فاتفقت مذاهب الفقهاء وجمهور الأمة علی أنه لايجوز للنساء الشواب کشف الوجوه والأکف بين الأجانب، ويستثنی منه العجائز لقوله تعالیٰ:"القواعد من النساء"، الآية، والضرورات مستثناة فی الجميع بالإجماع. فلم يبق للحجاب المشروع إلا الدرجتان الأولیتان: (1) الأولیٰ القرار فی البيوت وحجاب الأشخاص، وهو الأصل المطلوب. (2) والثانية خروجهن لحوائجهن مستترات بالبراقع والجلابيب وهو الرخصة للحاجة.
ولاشك أن کلتا الدرجتين منه مشروعتان، غير أن الغرض من الحجاب لما کان سد ذرائع الفتنة، وفی خروجهن من البيوت ولو للحوائج والضرورات کان مظنة فتنة، شرط عليهن الله ورسوله صلی الله عليه وسلم شروطاً يجب عليهن التزامها عند الخروج: -
1.أن یترکن الطیب ولباس الزینة عند الخروج، بل یخرجن وهن تفلات، کما مر فی کثیر من روایات الحدیث مما ذکرنا.
2.أن لايتحلين حلية فيها جرس يصوت بنفسه، کما فی حديث رقم42.
3.أن لايضربن بأرجلهن ليصوت الخلخال وأمثاله من حليهن، کما هو منصوص القرآن.
4.أن لا يتبخترن فی المشية کيلا تکون سبباً للفتنة، کما مر فی حديث رقم15 .
5.أن لا تمشین فی وسط الطریق، بل حواشیها، کما فی حدیث رقم38.
6.أن يدنين عليهن من جلابیبهن بحیث لایظهر شئ منهن الا عیناً واحدةً لرؤیة الطریق، کما مر من تفسیر ابن عباس لهذه الآیة.
7.أن لایخرجن إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم 37 .
8.أن لایتکلمن أحداً إلا بإذن أزواجهن، کما فی حدیث رقم50.
9.وإذا تکلمن أحداً من الأجانب عند الضرورة فلایخضعن بالقول فیطمع الذي في قلبه مرض، کما هو منصوص الکتاب
10. وأن يغضضن أبصارهن عن الأجانب عند الخروج.
.11أن لایلجن فی مزاحم الرجال، کمایستفاد من حدیث ابن عمر رضی الله عنه، لو ترکنا هذا الباب للنساء! (رقم25).
فهذه أحد عشر شرطاً وأمثالها، یجب علی المرأة التزامها عند خروجها من البیت للحوائج والضروریات، فحیث فقدت الشروط منعن من الخروج أصلًا.
«سنن الترمذي» (2/ 463):
عن عبد الله ؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «المرأة عورة،» فإذا خرجت استشرفها الشيطان.
«الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي» (10/ 7378):
«إذا عملت الزوجة نهارا أو ليلا خارج المنزل كالطبيبة والمعلمة والمحامية والممرضة والصانعة، فالمقرر في القانونين المصري والسوري أنه إذا رضي الزوج بخروجها ولم يمنعها من العمل، وجبت لها النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه.
وإن لم يرض بعملها، ونهاها عن العمل، فخرجت من أجله، سقط حقها في النفقة؛ لأن الاحتباس في هذه الحالة ناقص غير كامل، فلو سلمت المرأة نفسها بالليل دون النهار أو عكسه؛ فلا نفقة لنقص التسليم»-( 3/474-471)