میرے والدین کی کل جائیدادکا حصہ 68 لاکھ روپےہے، جس میں ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں، آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ 68 لاکھ روپے ایک بھائی اور پانچ بہنوں میں کیسے تقسیم ہو نگے؟ جس میں چار بہنوں کی شادی والدین کی وفات سے پہلے ہوئی اور ایک کی بعد میں ہوئی، میری والدہ کا انتقال والد کےانتقال سے پہلے ہو گیا ہے، ہر ایک کا کتناحصہ بنتا ہے؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سائل کے والد مرحوم کے ترکہ میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف , واجب الاداقرض اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد) اگر یہی رقم اڑسٹھ لاکھ(6800000)روپے بچتے ہوں ،اور مرحوم کے ورثاء بھی یہی ہو ں اس کے علاوہ کوئی وارث موجود نہ ہو ،تو مذکور رقم میں سے مرحوم کے بیٹےکو انیس لاکھ بیالیس ہزار آٹھ سوستاون(1942857)روپے،اوربیٹیوں میں سے ہر ایک کو نو لاکھ اکتھر ہزار چار سواٹھائیس (971428)روپے دیے جائیں ۔
باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0