السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اُمید ہے کہ آپ سب حضرات بخیر وعافیت ہوں گے، عرض گزارش ہے کہ ایک بندہ اور اس کی بیوی کے درمیان ان بن ہوکر دو سال سے دونوں الگ الگ اپنے اپنے گھروں میں موجود ہیں، الغرض بیوی شوہر کے ظلم سے تنگ آکر خلع مانگنے پر شوہر نے کہا میں تجھے طلاق نہیں دوں گا تو ایسے ہی تڑپتی رہنا، تو کیا بیوی قاضی صاحب سے فسخ نکاح کرا کر اپنے شوہر کے ظلم سے آزاد ہوسکتی ہے؟ نیز: فسخ نکاح کے بعد دونوں کے درمیاں دو سال کی جدائی ہے، تو ایسی صورت میں عورت کے لیے عدت ضروری ہے یا نہیں؟ براہ مہربانی جواب ارسال فرمائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے، جس کے لئے میاں بیوی کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جو کہ عدالتی یکطرفہ خلع میں مفقود ہوتا ہے، لہٰذا اگر مذکور عورت نے عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلی ہو تو اس سے مذکور عورت کا نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور برقرار ہے، اور اس عدالتی خلع کی ڈگری کو بنیاد بنا کر مذکور عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا بھی شرعاً درست نہیں ، تاہم اگر باوجود کوشش کے اس رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، تو مذکور عورت کچھ مال ( حق مہر وغیرہ ) کے عوض شوہر سے طلاق یا خلع حاصل کرسکتی ہے، لیکن شوہر اگر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو، اور نہ گھر بسا کر بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا ہو اور نہ ہی طلاق دیتا ہو ، تو ایسی صوت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں مذکور عورت کو نان نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخ نکاح کا حق حاصل ہوگا،
جس کا طریقہ یہ ہے کہ مذکور عورت اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج 3 ص 153 )۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: وأما المتعنت الممتنع عن الاتفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ ( ص 73 )۔
وفی الھندیۃ: ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها كذا في الهداية.وإن شكت في وقت موته فتعتد من حين تستيقن بموته كذا في العتابية.الخ (1/531 الباب الثالث عشر في العدة کتاب الطلاق ط ماجدیۃ)۔
شادی شدہ عورت اگر کسی کے ساتھ بھاگ کر چلی جائے تو اس کا نکاح ختم ہو جاتاہے؟نیز اس عورت کو ازخود قتل کیا جاسکتا ہے ؟
یونیکوڈ تفریق و تنسیخ 1