السلام علیکم!میں کار پیٹ کا کام کرتا ہوں،میری دکان ہے،دو لڑکے میرے ساتھ کام کرتے ہیں،ان کی تنخواہیں،دکان کا کرایہ،کھانا پینا اوربِل وغیرہ سارے اخراجات ملاکر دکان کے مہینے کا خرچ تقریباً تین لاکھ روپے ہے،ایک بندہ میرے ساتھ کا م کرنا چاہ رہا ہےپرسنٹ کے حساب سے،وہ تنخواہ پر کام نہیں کرنا چاہتا،وہ کہتاہے کہ مجھے سیل منافع میں سے حصہ دیا جائے اگر سیل منافع پانچ لاکھ ہو تو مجھے اس میں ٪15 چاہیے اور اگر سیل منافع پانچ لاکھ سے اوپر ہو تو مجھے٪20 چاہیے،اس میں جو بھی اخراجات ہیں،وہ مجھ پر ہوں گے،وہ صرف سیل کے منافع میں ٪15 یا ٪20 اپنی محنت کے عوض وصول کریگا،اگر سیل منافع مثال کے طور پر کسی مہینے تین لاکھ ہوتا ہے،تو اس میں اس کے ٪15 کے حساب سے پینتالیس ہزار روپے بنتے ہیں،اور میرا دکان کا خرچہ تین لاکھ ہے،تو مجھے کوئی منافع نہیں ہوا،اور میرا جو پینتالیس ہزار میں نے اس کو تین لاکھ کے ٪15 میں سے دیے وہ میرا نقصان ہوا،سوال یہ ہے کہ آیا اس کاسیل منافع میں ٪15 یا ٪20 کا مطالبہ جائز ہے؟اس کو کسی صورت میں نقصان نہیں ہے اور نہ ہی وہ میرے نقصان میں شریک ہے،سیل منافع جو بھی ہو وہ اپنا ٪15 یا ٪20 وصول کریگا،کیا وہ اس مطالبہ کے عوض میرے ساتھ کاروبار میں شریک کے زمرے میں آتا ہے؟اگر شریک کے زمرے میں آتا ہےتو پھر نفع ونقصان میں بھی دونوں شریک ہیں یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔شکریہ
نوٹ: اس کی کوئی انویسٹمنٹ نہیں ہے۔
واضح ہو کہ اجارہ کی درستگی کے لیے اجارہ کی دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ اجرت کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے ،ورنہ اجارہ درست نہ ہوگا،لہذا صورت مسئولہ میں مذکور طریقہ کے مطابق معاملہ کرنے میں چونکہ اجرت مجہول ہے ،لہذا یہ معاملہ شرعا درست نہیں، البتہ اس کی جائز اور درست صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مذکور شخص کے لیے کچھ رقم (خواہ وہ رقم بہت معمولی ہو )بطور تنخواہ مقرر کی جائے، جو اسے مہینے کے آخر میں بہر صورت ملے گی ،تا ہم اس کے علاوہ فیصدی لحاظ سے اس کو جتنا دینا ہو ،تو وہ بھی باہمی رضامندی سے طے کر لیا جائے تو یہ معاملہ شرعا بھی بلا شبہ جائز اور درست ہوگا ،اور دونوں کا مقصد بھی شرعی طریقے کے مطابق پورا ہو جائے گا۔
کمافی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى الخ(ج6 ص79 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ(ج6 ص63 کتاب الاجارۃ ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قال - رحمه الله - (والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) يعني الأجير الخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة عمل أو لم يعمل الخ(ج8 ص33 کتاب الاجارۃ ط: دارالکتاب الاسلامی)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0