NFT ایپلیکیشن ہے جو گارنٹی شدہ ہے .او،کے، ایکس، میں لسٹڈ ہے پلے سٹور پر ایپلیکیشن موجود ہے.جو کئی سالوں سے ورکنگ کر رہی ہے لوگ اس میں پیسے انویسٹ کرکے روزانہ منافع لیتے ہیں اس کا کاروبار جائز ہے کہ نہیں؟
واضح ہوکہ ٹریژر این ایف ٹی جیسی ایپس میں پیسے انویسٹ کرکےکاروبارکرنا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ اس میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں، سب سے پہلے، یہاں ایسی چیزوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے جو شرعاً مالِ متقوم نہیں، اور اس کے علاوہ سرمایہ پر فکس نفع دینا ،جوکہ ناجائز ہے۔ مزید یہ کہ کمیشن سسٹم ملٹی لیول مارکیٹنگ (MLM) اور پونزی اسکیم کی طرز پر کام کرتا ہے، جو دھوکہ اور غرر پر مبنی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اس کمپنی کی قانونی حیثیت بھی موجود نہیں، جو اس کاروبار کے خطرات اور ناجائز ہونے کو مزید بڑھا دیتی ہے، لہٰذا یہ کاروبار شرعاً ناجائز ہے اور اس سے اجتناب کرنا لازم ہے۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ،ج5،ص146،ط:ایچ ایم سعید)۔
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد الخ( کتاب البیوع،ج4،ص 502،ط:ایچ ایم سعید)۔