کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گزشتہ کچھ ایام قبل ہمارے والد محترم مرحوم وفات پا گئے اور ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ ، والدہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہے، اور ایک بیٹا والد صاحب کی زندگی میں 14 سال قبل فوت ہوا جس کی ایک بیوہ چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اب ہم والد صاحب کے ترکہ کو شریعت کے مطابق تقسیم کرنا چاہتے ہیں، اس کا جواب بتا دیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی وضاحت کرلیں کہ مرحوم بیٹے کی جو بیوہ اور بچے ہیں، ان کا جائیداد میں حصہ ہوگا یا نہیں ؟
واضح ہو کہ والد کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہوجائے تو اس بیٹے /بیٹی کا اپنے والدین کے ترکہ میں شرعاً کوئی حصہ نہ ہوگا اور نہ ہی ان کی اولاد کو اپنے دادا، دادی /نانا، نانی کے ترکہ میں حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز ہے، چنانچہ سائل کے مرحوم والد کے ترکہ میں بھابھی اور بھتیجےبھتیجیوں کو شرعاً کوئی حصہ نہیں ملے گا، البتہ اگر ورثاء اپنی رضامندی سے انہیں بھی کچھ دینا چاہیں تو انہیں اس بات کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ سائل کے والد مر حوم کا ترکہ ان کے ورثاء کے درمیان اصولِ میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال وجائیداد ، سونا چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز وسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد کے ذمہ کچھ قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم والد نے کوئی جائز وصیت کی ہو ، تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3)کی حد تک اس پر عمل کریں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ، اس کے کل دو سو سولہ (216) حصے بنائے جائیں، جن میں سے بیوہ کو ستائیس(27) حصے، والدہ کو چھتیس(36) حصے، ہر بیٹے کو چونتیس (34) حصے، اوربیٹی کو سترہ (17) حصے دیے جائیں -
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله هي علم بأصول إلخ) (الی قولہ) وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،الخ (ج6 ص 758 کتاب الفرائض ط سعید)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: وقد ذکر الإمام أبو بکر الجصاص الرازی رحمہ اللہ فی أحکام القرآن والعلامۃ العینی فی عمدۃ القاری ، الإجماع علی أن الحفید لا یرث مع الابن، الخ(ج2 ص 18 باب ألحقو الفرائض بأھلھا ط دارالعلوم کراتشی)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1