کیا فر ماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے ، ان کے نکاح میں ایک بیوی تھی ،ان کا انتقال ہو گیا تھا پھروالد صاحب نے دوسری عورت کے ساتھ نکاح کیا ،پہلے بیوی کے انتقال کے وقت مذکور ورثاء موجود تھے ،شوہر (سائل کا والد )چار بیٹے ،پانچ بیٹیاں ،اور پھر میرے والد صاحب نے دوسری عورت سے نکاح کیا ،ان سے 2 دوبیٹے اور 2بیٹیاں ہیں ،پھر اس کے بعد والد صاحب کا انتقال ہو ، ورثاء میں ایک بیوہ چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں جو پہلی بیوی سے تھیں ،2 بیٹے اور 2 بیٹیاں جو دوسری بیوی سے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہیں کہ والد صاحب کی کل جائیداد کی شرعی تقسیم کیا ہو گی ؟اور ہر وارث کو کتنا حصہ ملے گا ؟ہمارے رہنمائی فرما ئیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اپنی مزدوری اور کمائی سے ایک ہوٹل لیا ہے کرایہ پر، اس میں نہ کسی بھائی نے کچھ پیسے دیے تھے اور نہ والد صاحب کی کمائی سے میں نے یہ ہو ٹل کرایہ پر لیا ہے ، بلکہ اپنی کمائی کرکے کرایہ کا ہو ٹل لیا ہے ،اب اس ہو ٹل میں بھی ان دو بھائیوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟جو والد صاحب کی دوسری بیوی سے ہیں ان کا بھی حصہ بنتا ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے اپنی ذاتی کمائی سے ہوٹل کرایہ پر لیا ہو ،اس میں سائل کے والد یا بھائیوں میں سے کسی کی رقم شامل نہ ہواور نہ ہی ان کے درمیان آپس میں ہوٹل کی آمدن کے متعلق کوئی معاہدہ ہوا ہو بلکہ سائل نے اکیلے اور ذاتی طورپر یہ معاملہ کیا ہو ، تو ایسی صورت میں سائل کی سو تیلی والدہ یا دیگر بہن بھائی ہو ٹل کے منافع اور آمدن میں شرعاً حصہ دار نہ ہو نگے،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اس کی مکمل تفصیل ذکر کرنے کے بعد حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔
اس کے بعد سائل کےوالدمرحوم کا تر کہ اصولِ میراث مطابق ان کے موجود ورثاءمیں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جوکچھ منقولہ وغیرمنقولہ مال و جائیداد ,سونا ،چاندی ،زیورات ،نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو سازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے،وہ سب مرحوم کا ترکہ ہے ، جس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض یا بیوہ کا حق مہر واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3 )حد تک اس پر عمل کرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل ایک سوباون (152)حصے بنائے جائیں ،جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو انیس(19)حصے،مرحوم کےہربیٹے کو چودہ(14)حصے، جبکہ مرحوم کی ہر بیٹی کوسات (7)حصے دیے جائیں -
ا فی تنقیح الحامدیہ: و فی الفتاوی الخیریہ سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ومات ھل ھی لوالدہ خاصہ ام تقسم بین ورثتہ اجاب ھی للابن تقسم بین ورثتہ علی فرائض اللہ تعالیٰ حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ اھ(2/17)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2