السلام علیکم! میرے شوہر پرتگال میں ہیں ایک سال سے، وہاں نوکری کا بہت مسئلہ ہے، دو مہینے ہوتی ہے تو تین مہینے نہیں ہوتی، وہ اب وہاں پر فوڈ ڈلیوری کا کام کررہے ہیں، آپ سے پوچھنا تھا کہ لوگ وہاں یورپ میں حرام چیزوں سے بنا ہوا کھانا بھی آرڈر کرتے ہیں، کبھی آرڈر پتہ ہوتا ہے کہ کیا ہے اور کبھی نہیں پتہ ہوتا کہ آرڈر کیا چیز ہے، تو اس کھانے کو ڈلیور کر کے پیسے کمانا حلال ہے یا حرام ؟ براہِ مہربانی اس بارے میں بتادیں ، میں بہت پریشان ہوں۔ جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کہ سائلہ کا شوہر اگر فوڈ ڈیلیوری میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا ہو تو ایسی صورت میں اس کے لئے فوڈ ڈلیوری کی ملازمت جائز اور اس پر ملنے والا معاوضہ حلال ہوگا، البتہ اگر اسے کبھی کبھی حرام اشیاء بھی گھروں تک پہنچانی پڑتی ہو تو اولاً سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ حتی الامکان حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے اجتناب کیا کرے اور اگر ممکن ہو تو متعلقہ ادارہ کو مطلع کر کے حرام اشیاء کی ڈیلیوری سے بچنے کی بھرپور کوشش کرے، البتہ اس کے باوجود اگر کبھی کبھار ایسا کرنا پڑجائے تو اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرتا رہے اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض جتنا معاوضہ ملتا ہو، اتنی رقم صدقہ کردیا کرے۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: {وتعاونوا على البر والتقوى} يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى. (ج 2 ص 381 )۔
وفی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى الخ(مبحث الاجیر الخاص،ج6،ص69،ط:سعید)۔