میرا ایک قریبی دوست فاریکس ٹریڈنگ کرتا ہے جب اس سے یہ کہا گیا کہہ یہ حرام ہے تو اس نے اِس کا حَل یہ نکالا کہ وہ اب ہر ماہ اپنے والد کو فاریکس ٹریڈنگ سے کمائی ہوئی رقم دے دیتا ہے، جس سے وہ بجلی کے بِل اور اسکولوں کی فیس وغیرہ جیسے اخراجات ادا کرتے ہیں، اور اس پر خرچ ہوئی مخصوص رقم میرے دوست کو دے دیتے ہیں، جس کو وہ کھانے پینیی اور دوسرے اخراجات پر خرچ کرتا ہے، کیا ایسا کرنے سے اس کی کمائی گئی وہ رقم حلال ہوجاتی ہے ؟ واضح رہے کہ اس کی والد کی کمائی کا ذریعہ حلال ہے .
سائل کا دوست اگر فاریکس ٹریڈنگ کے لئے درست اور شرعاً قابلِ قبول طریقہ کار کو اختیار نہ کرتا ہو، بلکہ غیر شرعی طریقہ کار کے مطابق وہ فاریکس ٹریڈنگ کرتا ہو تو اس کی آمدنی حلال اور پاکیزہ نہ ہوگی، بلکہ اسے غیر شرعی طریقہ کار کے ذریعے کمائی ہوئی آمدنی کو بلانیتِ ثواب کسی مستحق کو صدقہ کرنا لازم ہوگا، لیکن اس کے لئے سوال میں مذکور طریقہ کار اختیار کرنا درست نہیں۔
کما فی فقه البيوع : أما في بيان القسم الأول ، نعبر عن جميع العقود الباطلة فيما يأتي بالمغصوب ، و الذى يقبض هذا المال الحرام بالغصب . و ذلك لسهولة التعبير ، و يشمل هذا التعبير كل مال حرام لا يملكه المرأ في الشرع ، سواء كان غصباً ، أو سرقة ، أو رشوة ، أو رباً في القرض ، أو مأخوذاً ببيع باطل . و إنه حرام للغاصب الانتفاع به ، أو التصرف فيه ، فيجب عليه أن يرده إلى مالكه ، أو إلى وارثه بعد وفاته ، و إن لم يمكن ذلك لعدم معرفة المالك أو وارثه ، أو لتعذر الرد عليه لسبب من الأسباب ، وجب عليه التخلص منه بتصدقه عنه من غير نية ثواب الصدقة لنفسه.(2/1006)۔
و فی ردالمحتار: و الحاصل : أنه إن علم أرباب الأموال و جب رده عليهم ، و إلا فإن علم عين الحرام لايحل له ، و يتصدق به بنية صاحبه .(5/99)۔
وفي رد المحتار: تحت (قوله الحرام ينتقل) أي تنتقل حرمته وإن تداولته الايدي وتبدلت الاملاك. (إلى قوله) وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى ذمتين. سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما لو رأى المكاس مثلا يأخذ من أحد شيئا من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام الخ (ج5، ص98، ط : سعيد)