السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے او جس گھر میں ہم رہتے ہیں وہ گھر مرحوم والد صاحب کے نام پر ہے ، اس گھر میں چھوٹا بھائی اور اسکی بیوی بچے بھی رہتے ہیں اور والدہ بھی ساتھ ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ چھوٹے بھائی اور اسکی بیوی میری بیوی کے ساتھ بہت بد تمیزی کرتے ہیں، ہر وقت کوئی نہ کوئی مسئلہ رہتا ہے ، لہذا میں یہ گھر فروخت کرنا چاہتا ہوں ،والدہ حیات ہے ، گھر والد کے نام ہے ، ایسی صورت میں مجھے میری وراثت کا حصہ چاہیئے تو اس مسئلہ میں اسلام کے مطابق مجھے میرا حصہ مل سکتا ہے کیا ِ ؟
نوٹ: ورثاء میں مرحوم کی والدہ ، بیوہ ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں موجود ہیں۔
سائل کے والد مرحوم کی وفات کے بعد ان کے متروکہ مکان میں جس طرح مرحوم کے دیگر ورثاء کا حصہ ہے ، اسی طرح سائل بھی اپنے شرعی حصے کے بقدر حصہ دار ہے ، لہذا اگر تمام ورثاء متروکہ مکان کو فروخت کرنے پر رضا مند ہوں تو مکان فروخت کر کے ورنہ مذکور مکان اگر قابل ِ تقسیم ہو تو پھر مکان تقسیم کر کے دیگر ورثاء کے ذمہ سائل کو اس کا شرعی حصہ دینا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنةالخ کتاب الفرائض ج 6 صـ 762 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء الخ(کتاب الشرکۃ ج 4 صـ 300 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت (قوله أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب) أي القرآن وهم الأبوان والزوجان والبنون والبنات والإخوة والأخوات الک (کتاب الفرائض ج 6 صـ 762 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: تحت(قوله: فصح له بيع حصته) تفريع على التقييد بمال صاحبه ط (قوله: إلا في صورة الخلط) والاختلاط فإنه لا يجوز البيع من غير شريكه بلا إذنه (إلی قولہ) فبيع كل منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي، بخلاف ما إذا كانت بالخلط أو الاختلاط كان كل حبة مملوكة بجميع أجزائها ليس للآخر فيها شركة، فإذا باع نصيبه من غير الشريك لا يقدر على تسليمه إلا مخلوطا بنصيب الشريك فيتوقف على إذنه الخ (کتاب الشرکۃ ج 4 صـ 300 ط: سعید)
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2