فیوچر ٹریڈنگ کیا ہے؟ اور اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟
فیوچر ٹریڈنگ کسی چیز کی ایسی خرید وفروخت کو کہا جاتا ہے ،جس میں وہ چیز خرید وفروخت کے وقت موجود نہ ہو اور نہ ہی اس کے ثمن کی ادائیگی کی جاتی ہو ،بلکہ قیمت اور اس چیز پر قبضہ دینے اور لینے کے لئے باہمی رضامندی سے مستقبل (فیوچر)کی کوئی تاریخ طے کرلی جائے ،جبکہ فیوچر ٹریڈنگ کا مقصد بھی عموماً مستقبل میں اس چیز کی خرید وفروخت نہیں ہو تی، بلکہ اس چیز کی قیمتوں کا فرق برابر کرکے نفع حاصل کرنا مقصود ہو تا ہے ،لہذا اس طرح خرید وفرخت میں شرعی شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ،اس لئے مستقبل کے سودے (فیوچر ٹریڈنگ)شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی فقہ البیوع: سبق منا أن البيع إنما ينعقد بصيغة تدلّ على إنشاء العقد في الحال ولذلك لا ينعقد البيع بصيغة تتمحض للاستقبال، مثل قولنا "سوف أبيعك كذا" أو "سوف أشترى منك كذا " وإنما تُنبئ هذه الصيغة عن الوعد بإنجاز البيع في المستقبل، وليس بيعاً.(77/1)۔
وفیہ ایضاً: وأما البيوع المستقبلة، فالمراد منها البيوع المضافة إلى المستقبل، بمعنى أن البائع فيها يعقد في يوم العقد بيع أسهم شركة معيّنة في تاريخ لاحق وفيه عدة محظورات من الناحية الشرعية:
الأول: أنه بيع مضاف إلى المستقبل، وسيأتى (فى شروط البيع التي ترجع إلى طلب العقد) أنه محظور شرعاً فى غير السّلم، وشروط السلم منتفية في مثل هذا البیع،
الثاني: أنه يستلزم تأجيل البدلين وبيع الكالى بالكالي، لأن ثمن البيع لا يدفع عادةً عند العقد، بل عند حلول التاريخ المعقود عليه.
الثالث: أن المبيع فى معظم هذه العقود لا يكون مملوكاً للبائع عند العقد. وفي معظم الحالات، لا يُقصد بهذا البيع تسليم المبيع وتسلّمه، وإنما ينتهى العقد بتسوية فروق الأسعار، وهو نوع من المضاربات والمقامرة۔(383/1)۔
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0