میں مکہ میں ملازمت کرتا ہوں ایک نجی کمپنی میں مگر میں عمرہ کی نیت کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہوا تھا، اب مجھے عمرہ کرنے کا ارادہ ہے ، تو مجھے کیا کرنا چاہئے جب کہ میں مکہ شہر میں ہی مقیم ہوں، براہ کرم رہنمائی فرمائیں، شکریہ۔
نوٹ: سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل خارج میقات میں مقیم ہے۔
واضح ہو کہ عند الاحناف حدود حرم اور میقات سے باہر رہنے والا شخص خواہ کسی بھی غرض سے حدود حرم میں آنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو اسے میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کی ادائیگی کرنا لازم ہوتا ہے، ورنہ بغیر احرام کے میقات سے گزرنے کی صورت میں اس کے ذمہ حدود حرم میں دم اور ایک حج یا عمرہ کی ادئیگی لازم ہوگی،لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر بغیر احرام میقات سے گزر جانے کی صورت میں اس کے ذمہ ایک دم اور ایک عمرہ کی قضاء لازم ہے، تاہم اگر وہ حدود حرم سے باہر کسی بھی قریبی میقات جاکر وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کی ادائیگی کا اہتمام کرلے، تو ایسی صورت میں سابقہ کوتاہی کا بھی ازالہ ہو کر سائل کے ذمہ واجب ہونے والا دم اور عمرہ دونوں ساقط ہوجائیں گے۔
کما فی تبیین الحقائق: وَمَنْ كَانَ دَاخِلَ الْمِيقَاتِ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ بِغَيْرِ إحْرَامٍ لِحَاجَتِهِ؛ لِأَنَّهُ يُكْثِرُ دُخُولَهُ مَكَّةَ وَفِي إيجَابِ الْإِحْرَامِ فِي كُلِّ مَرَّةٍ حَرَجٌ بَيِّنٌ فَأَلْحَقُوا بِأَهْلِ مَكَّةَ حَيْثُ يُبَاحُ لَهُمْ الدُّخُولُ بِغَيْرِ إحْرَامٍ بَعْدَمَا خَرَجُوا مِنْهَا لِحَاجَةٍ؛ لِأَنَّهُمْ حَاضِرُو الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الخ(ج2 ص7 موقیت الاحرام باب الحج مکتبۃ الکبری)۔
وفی الدرالمختار: (وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام الخ(ج2 ص476 مطلب فی الموقیت کتاب الحج ط سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: من جاوز الميقات غير محرم ثم عاد محرما ملبيا أو جاوز ثم أحرم بعمرة ثم أفسد، وقضى بطل الدم) أي من جاوز آخر المواقيت بغير إحرام ثم عاد إليه، وهو محرم، ولبى فيه فقد سقط عنه الدم الذي لزمه بالمجاوزة بغير إحرام؛ لأنه قد تدارك ما فاته أطلق الإحرام فشمل إحرام الحج فرضا كان أو نفلا، وإحرام العمرة، وأشار إلى أنه لو عاد بغير إحرام ثم أحرم منه فإنه يسقط الدم بالأولى؛ لأنه أنشأ التلبية الواجبة عند ابتداء الإحرام،الخ (ج3 ص51 باب مجاوزة الميقات بغير إحرام باب الجنايات في الحج ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله وحل لأهل داخلها) شروع في الصنف الثاني من المواقيت، والمراد بالداخل غير الخارج فيشمل من فيها نفسها ومن بعدها فإنه لا فرق بينهما في المنصوص من الرواية، كما صرح به في الفتح والبحر وغيرهما وينبغي أن يراد داخل جميعها ليخرج من كان بين ميقاتين كمن كان منزله بين ذي الحليفة والجحفة لأنه بالنظر إلى الجحفة خارج الميقات؛ فلا يحل له دخول الحرم بلا إحرام تأمل الخ (ج2 ص476 مطلب فی الموقیت کتاب الحج ط سعید)۔