براہِ مہربانی میرے مرحوم والد کی 1065000 کی رقم ان کے 3 بیٹوں، 2 بیٹیوں اور ایک مرحوم بیٹے کے خاندان میں تقسیم کرنے کا فتویٰ دیں جو کہ 2 بیٹوں اور 1 بیٹی پر مشتمل ہے اسلامی وراثت کے قوانین کے پیشِ نظر ہمیں فتویٰ کی ضرورت ہے۔ مستحقین میں 1065000 روپے کی رقم کی تقسیم۔
کیس کی تفصیلات: - فوت شدہ شخص میرے والد (اللہ ان پر رحم فرمائے) - استفادہ کنندگان: - 3 بیٹے (A، B، اور C)2بیٹیاں (D اور E) - مرحوم بیٹے کا خاندان (F، بشمول اس کی بیوی اور بچے 2 بیٹے اور ایک بیٹی کی تقسیم: اسلامی وراثت کے قوانین کے مطابق، 1065000 روپے کی کل رقم مستحقین میں تقسیم کرنےکا تناسب کیا ہوگا۔
نوٹ: والد مرحوم کے بعد مذکور بیٹے کا انتقال ہوا،اور ان کے بعد والدہ مرحومہ نے وفات پائی۔
واضح ہو کہ والد مرحوم کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ورثاء کے درمیان اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا ، چاندی ، زیورات ، نقد رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے سب سے پہلے ، مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کر یں ، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کے کل نو ہزار چھ سو حصے بنائے جائیں، جن میں سے ہر بیٹے کو دوہزار پچاس(2050)حصے،ہر بیٹی کو ایک ہزار پچیس(1025) حصے،بہو کودوسودس(210)حصے،ہر پوتے کوچار سوچھہتر(476)حصے،اور پوتی کودوسواڑتیس(238)حصے دیے جائیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2