میں ایک ٹول پر مبنی ویب سائٹ بنا رہا ہوں ،جس کے لیے ایک مخصوص قسم کی بیپ ساؤنڈ کی ضرورت ہے، یہ آواز میری ویب سائٹ کے لیے بہت اہم ہے اور اس کے بغیر ویب سائٹ نامکمل ہے، میرے چند حریف پہلے سے ہی ایسی ویب سائٹس چلا رہے ہیں جن میں یہ بیپ ساؤنڈ موجود ہے،میں نے سوچا ہے کہ ان حریفوں کی ویب سائٹس سے یہ بیپ ساؤنڈ کاپی کر لوں تاکہ اپنی ویب سائٹ پر استعمال کر سکوں،میری ویب سائٹ کا منیٹائزیشن ماڈل اشتہارات پر مبنی ہوگا، یعنی ویب سائٹ پر آنے والے وزیٹرز اشتہارات دیکھیں گے اور اس سے مجھے آمدنی حاصل ہوگی،میں بیپ ساؤنڈ سے براہ راست کوئی کمائی نہیں کروں گا، لیکن وزیٹرز کی وجہ سے اشتہارات کے ذریعے آمدنی ہوگی،میرا سوال یہ ہے کہ کیا اسلام میں کسی دوسری ویب سائٹ سے بغیر اجازت کے بیپ ساؤنڈ کاپی کرنا جائز ہے؟ اور اگر میں ایسا کروں تو کیا میری ویب سائٹ سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی یا حرام؟آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں۔
سائل کی جانب سے اپنی ویب سائٹ پر لگائے جانے والے اشتہارات اگر غیرشرعی امور(میوزک،برہنہ و نیم برہنہ تصاویر وغیرہ) پر مشتمل نہ ہوں اور نہ ہی اس سے کسی غیر شرعی چیز کی تشہیر ہوتی ہو تو ایسی صورت میں مذکوراشتہارات کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی اگرچہ حرام تو نہ ہوگی، مگر کسی دوسرے کی ویب سائٹ سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی ایسی چیز کاپی کرنا جس کے حقوق اس کے پاس محفوظ ہوں یا اپنی ویب سائٹ پر ایسا ساؤنڈ لگانا جو میوزک پر مشتمل ہو، ناجائز وحرام ہے جس سے سائل کو احتراز لازم ہے۔
کما فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه(المادۃ 96)۔
و فی الدر المختار:أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا الخ(فصل فی البیع،ج6،ص391،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ: ومنها أن يكون مقدور الاستيفاء حقيقة أو شرعا فلا يجوز استئجار الآبق ولا الاستئجار على المعاصي الخ(کتاب الاجارۃ،ج4،ص411،ط:ماجدیہ)۔
وفی رد المحتار تحت:(قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به الخ(فصل فی البیع،ج6،ص391،ط:سعید)۔
وفی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: الأمور بمقاصدها يعني: أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر(المادة 2،ج1،ص19،ط: دار الجيل)۔